
خلیج اردو
دبئی: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی سینیٹر عون عباسی بپی کا کہنا ہے کہ دوہزار پچیس تک پاکستان کی ای کامرس مارکیٹ 9.1 بیلین ڈالر تک پہنچے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ای کامرس مارکیٹ ترقی پزیر ہے اور اس میں کافی صلاحیت موجود ہے۔ آنے والے وقت میں یہ مارکیٹ علاقائی منڈیوں میں نمایاں مقام پائے گا۔انہوں علاقائی تیس ملین ٹریلین مارکیٹ کے ساتھ پاکستانی ای کامرس مارکیٹ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال یہ مارکیٹ چار بیلین ڈالر ہے جو کہ بہت کم ہے۔
معاون خصوصی عون عباس نے دعویٰ کیا کہ ای کامرس پر توجہ دیتے ہوئے ہم اپنا تجارتی خسارہ کم کرسکتے ہیں جس سے ملکی معاشی صورت حال میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ رویتی مارکیٹ کے مقابلے میں ای کامرس مارکیٹ میں صلاحیت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اس میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مسٹر عباس نے بتایا کہ حال ہی میں ہم نے ایک ای کامرس کنونشن کا انعقاد کیا جس میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے شرکت کی اور معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے بہت اچھا ردعمل ملا۔
میڈیا سے گفتگو میں معاون خصوصی نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ذاتی توجہ سے ای کامرس سیکٹر کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، ٹیکس اور کاروبار کرنے کی دولت اور فری لانس کے مسائل پر توجہ دی جا رہی ہے۔
عون عباس نے کہا کہ ٹیکسیشن، بزنس رجسٹریشن، ادائیگیاں اور بینکنگ، فری لانسرز اسٹارٹ اپ، لاجسٹکس اور شپنگ، مارکیٹ تک رسائی، مارکیٹ میں اضافی، صارفین کا تحفظ اور ڈیٹا پروٹیکشن وہ اہم شعبے ہیں جن پر توجہ دی جارہی ہے اور ان پر کام کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے رجسٹرڈ فری لانسرز کے لیے ملک کی پہلی زیرو ٹیکس پالیسی شروع کی ہے۔ اس وقت پاکستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی ڈیجیٹل مارکیٹ ہے اور اس میں ’’ہم ہندوستان سے مقابلہ کر رہے ہیں۔
معاون خصوصی نے بتایا کہ ای کامرس تجارت میں کمپنیوں اور انفرادی ڈیٹا سے متعلق معاملات کو ای تجارات پورٹل کے آغاز سے حل کیا گیا جس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بنک بڑا معاون ہے اور مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک نئی ایکویٹی انویسٹمنٹ پالیسی کی منظوری دی گئی ہے اور ای کامرس سیکٹر کو سلیکون ویلی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
Source:About Pakistan







