
خلیج اردو
دبئی:جیسے ہی متحدہ عرب امارات میں رمضان المبارک کے آغاز کا اعلان ہوا، ملک بھر میں عبادت گزار مغرب کی نماز کے بعد مساجد میں رکے رہے اور پہلی نمازِ تراویح کے لیے بے حد پُرجوش نظر آئے۔
چاند نظر آنے کی خبر سنتے ہی لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بہت سے نمازی گھر واپس جانے کے بجائے مسجد میں ہی عبادات اور ذکر و اذکار میں مشغول ہو گئے تاکہ اس خاص رات کی روحانی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
راس الخیمہ کے رہائشی عامر شہیب بھی ان نمازیوں میں شامل تھے جو مغرب کے بعد مسجد میں رکے رہے۔ انہوں نے کہا:
"جیسے ہی چاند نظر آنے کی خبر ملی، میں نے سمجھ لیا کہ آج رات تراویح ہوگی۔ گھر واپس جانے کے بجائے میں نے مسجد میں ہی رکنے کا فیصلہ کیا۔”
انہوں نے مزید کہا:”میں اپنا وقت عبادت میں گزار رہا ہوں اور اپنے دل و دماغ کو اس مقدس مہینے کے لیے تیار کر رہا ہوں۔ میں تمام مسلم بھائیوں کو رمضان کریم کی مبارکباد دیتا ہوں۔”
خاندانوں اور بچوں کی مساجد میں آمد
ملک بھر میں لوگ اپنے اہلِ خانہ اور بچوں کے ساتھ مساجد کا رخ کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ خاموشی سے قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف ہیں، جبکہ دیگر ذکر و اذکار میں مشغول ہیں۔
دبئی کے رہائشی محمد علی نے بتایا کہ انہوں نے اور ان کے دوستوں نے پہلے سے ہی چاند نظر آنے کی توقع کر رکھی تھی اور پوری تیاری کے ساتھ مسجد آئے تھے۔
"ہم نے مغرب کے لیے نکلنے سے پہلے ہی اپنی جائے نمازیں اور پانی کی بوتلیں ساتھ رکھ لی تھیں۔ جیسے ہی چاند نظر آنے کی تصدیق ہوئی، ہم وہیں رک گئے اور اس وقت کو دعا اور غور و فکر میں گزارا۔ رمضان کی پہلی رات ہمیشہ ایک خاص روحانی کیفیت رکھتی ہے۔”
رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی ملک بھر میں عبادت، ذکر و اذکار اور اجتماعی دعا کا خوبصورت منظر دیکھنے کو ملا، جہاں ہر شخص اس مبارک مہینے کی رحمتوں کو سمیٹنے کے لیے بے تاب نظر آیا۔







