خلیجی خبریںمتحدہ عرب امارات

دبئی میں لیب گروون ہیروں کی مقبولیت میں تیزی، قدرتی ہیروں کو پیچھے چھوڑنے کا امکان

خلیج اردو
دبئی: دبئی کے لگژری جیولری مارکیٹ میں لیب گروون ہیرے تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں یہ قدرتی ہیروں کی فروخت کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔

صارفین اب کم قیمت میں اعلیٰ معیار کے ہیرے حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

دبئی میں کسٹم ڈیزائن جیولری کے ماہر فرگس جیمز کا کہنا ہے کہ پہلی بار ہیرے خریدنے والے 70 فیصد صارفین قدرتی ہیروں کے بجائے لیب میں تیار کردہ ہیرے خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اگر آپ نئے خریداروں کو یکساں معلومات فراہم کریں تو 10 میں سے 7 لوگ لیب گروون ڈائمنڈز کا انتخاب کریں گے،‘‘ انہوں نے کہا۔

لیب گروون ڈائمنڈز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی بنیادی وجہ قیمت میں نمایاں فرق ہے۔ جیمز کے مطابق، تین قیراط کا قدرتی ہیرہ تقریباً 30,000 سے 35,000 ڈالر میں دستیاب ہوتا ہے، جبکہ اسی معیار کا لیب گروون ہیرہ صرف 4,000 سے 4,500 ڈالر میں خریدا جا سکتا ہے۔

یہ ہیرے کیمیاوی طور پر قدرتی ہیروں جیسے ہی ہوتے ہیں اور انہیں وہی سرٹیفیکیشن ملتا ہے جو روایتی ہیروں کو دیا جاتا ہے۔ ’’یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی بچہ قدرتی طریقے سے پیدا ہو یا آئی وی ایف کے ذریعے۔ آخر میں دونوں بچے ہی ہوتے ہیں،‘‘ جیمز نے وضاحت کی۔

ابتدائی طور پر خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ رجحان صرف کم بجٹ والے نوجوانوں یا ماحول دوست صارفین تک محدود ہوگا، لیکن اب امیر طبقہ بھی ان ہیروں کو پسند کر رہا ہے۔ ’’ہمارے پاس ایسے گاہک ہیں جو لاکھوں ڈالرز کی قدرتی جیولری خریدنے کے بعد لیب گروون ڈائمنڈز کی بھی خریداری کرتے ہیں،‘‘ جیمز نے بتایا۔

دبئی میں لیب گروون ہیرے روایتی ہیروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

2ڈاٹ 4 کے ایگزیکٹو چیئرمین ارنوڈ فامبو کا کہنا ہے کہ پانچ سال پہلے صارفین کو ان ہیروں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔

مگر آج لوگ خود ان کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ ’’دبئی میں لگژری جیولری کی کھپت یورپ سے زیادہ ہے اور یہاں لیب گروون ڈائمنڈز کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

یہ ہیرے نہ صرف کم قیمت پر دستیاب ہیں بلکہ ماحولیاتی لحاظ سے بھی قدرتی ہیروں کے مقابلے میں زیادہ پائیدار سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی تیاری میں قدرتی وسائل کا کم استعمال کیا جاتا ہے اور پانی کا ضیاع بھی 99.99 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، امریکہ میں پہلے ہی 60 سے 70 فیصد ہیروں کی فروخت لیب گروون ڈائمنڈز پر مشتمل ہے اور دبئی میں بھی آئندہ چند سالوں میں یہی رجحان دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

فامبو کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں اب ’’چھوٹے ہیروں کے بجائے بڑے اور معیاری ہیرے خریدنے کا رجحان ہے‘‘، کیونکہ لیب میں تیار کردہ ہیروں کی کوالٹی بھی قدرتی ہیروں سے کم نہیں۔

’’آج کل کے صارفین کے لیے سب سے اہم چیز معیار اور سائز ہے، اور لیب گروون ہیرے انہیں یہ سب کچھ فراہم کر رہے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔

دبئی جیسے عالمی ڈائمنڈ ٹریڈنگ سینٹر میں، جہاں ہر قسم کے صارفین موجود ہیں، لیب گروون ہیرے روایتی ہیروں کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ رجحان واضح کرتا ہے کہ مستقبل میں ہیروں کی دنیا بڑی حد تک لیب میں تیار کردہ ہیرے پر منتقل ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button