خلیجی خبریںمتحدہ عرب امارات

رمضان میں یو اے ای میں قیام: تارکین وطن سالانہ چھٹی پر کیوں نہیں جاتے؟

خلیج اردو
دبئی:متحدہ عرب امارات میں مقیم کئی تارکین وطن رمضان کے دوران سالانہ چھٹی پر جانے کے بجائے وہیں قیام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں کم کام کے اوقات، سہولت، روحانی اور ثقافتی ماحول، اور کمیونٹی کا احساس شامل ہیں۔

دبئی میں مقیم آرٹسٹ اور مارکیٹنگ پروفیشنل، مشال حسین کا کہنا ہے کہ رمضان میں دبئی کا ماحول انہیں کہیں اور جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہونے دیتا۔ "یہاں کا روحانی ماحول، رات کے اوقات میں تراویح کی پر سکون فضا، اور افطار کی تقریبات مجھے اپنائیت کا احساس دلاتی ہیں۔”

ممتاز احمد، جو پچھلے 26 سال سے شارجہ میں مقیم ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ کبھی رمضان میں سالانہ چھٹی پر نہیں گئے۔ "یہاں کے چھ گھنٹے کے کام کے اوقات میرے لیے روزے، عبادات اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔”

نہ صرف مقامی رہائشی، بلکہ غیر ملکی سیاح بھی رمضان میں یو اے ای آنا پسند کرتے ہیں۔ ٹریول کمپنی ویگو کے بزنس چیف مامون حمیدان کے مطابق، "گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال رمضان میں یو اے ای آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔”

ریڈیو میزبان موریل ڈی’سا کے مطابق رمضان میں یو اے ای میں رہنے کا تجربہ عام دنوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ "یہ صرف ایک مہینہ نہیں، بلکہ ایک روحانی اور ثقافتی تجربہ ہے جو زندگی بھر یاد رہتا ہے۔”

رمضان کا پر سکون اور اجتماعی ماحول، حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولتیں، اور کمیونٹی کا جذبہ، یہ سب مل کر یو اے ای میں مقیم تارکین وطن کے لیے ایک ناقابل فراموش تجربہ بنا دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ سالانہ چھٹی پر جانے کے بجائے یہیں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button