متحدہ عرب امارات

یو اے ای: ‘سوشل میڈیا پر بحث سے گریز کریں، قوانین کا احترام کریں’، ماہرین کی تجاویز

خلیج اردو
دبئی: سوشل میڈیا عوامی رائے قائم کرنے، جذبات کو ابھارنے اور لوگوں کو قریب لانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، لیکن یہ غلط معلومات پھیلانے اور تنازعات پیدا کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی طاقت اس کے استعمال کرنے والوں کے ارادوں پر منحصر ہے۔ یو اے ای کے نیشنل میڈیا آفس  کی جانب سے آن لائن رویے کے بارے میں جاری کردہ تنبیہ کو ماہرین نے سراہا ہے۔ اتوار کے روز جاری بیان میں این ایم او نے سوشل میڈیا صارفین کو قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی۔

کہانی نویسی اور مواد کے مشیر خالد اکبک نے کہا کہ یو اے ای ہمیشہ سوشل میڈیا کے مثبت اور تعمیری استعمال کو فروغ دینے کے لیے قوانین بناتا ہے تاکہ احترام پر مبنی گفتگو کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ ہماری رواداری اور جامع ثقافت کی بنیاد ہے اور اسی طرح اسے محفوظ رکھا جائے گا۔

میڈیا آفس نے اپنے بیان میں سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا کہ وہ قومی اقدار، رواداری اور بقائے باہمی کے اصولوں کی پاسداری کریں۔ بیان میں قومی علامات، عوامی شخصیات، دوست ممالک اور ان کے معاشروں کی بے حرمتی سے باز رہنے کی تاکید کی گئی۔

اکبک نے سوشل میڈیا کے عوامی رائے پر اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا عوامی رائے بنانے میں طاقتور ذریعہ ہے؛ لوگ کہانیوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ آن لائن پلیٹ فارمز نے کہانی نویسی کو جمہوری بنا دیا ہے، جس سے کوئی بھی اپنی کہانی لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ ایسی کہانیاں بنانا جو سامعین کے ساتھ ہم آہنگ ہوں، مؤثر طور پر اقدار کو پہنچانے میں مدد کرتا ہے۔

ایسوس مشرق وسطیٰ میں صارفین کے تعلقات عامہ کے شعبے سے وابستہ اکرام سید نے کہا کہ مقامی قوانین اور ثقافتی اقدار کا احترام ضروری ہے۔ یو اے ای کے ضوابط کی پاسداری سے آن لائن ہم آہنگی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

این ایم او نے خبردار کیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی یا ملک کے ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ اور متوازن رکھنے کے قوانین سے انحراف کرنے پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اکرام سید نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات تیزی سے پھیل سکتی ہیں، لہٰذا کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے ذرائع کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اختلافی موضوعات سے اجتناب کرنے اور قیادت پر بھروسہ رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

سوشل میڈیا صارفین کے لیے یہ بھی تجویز کیا گیا کہ وہ جذباتی تبصروں سے دور رہیں کیونکہ ایسی بحثیں منفی رجحانات کو بڑھا سکتی ہیں۔ سید نے کہا کہ آن لائن معاملات میں پیشہ ورانہ رویہ برقرار رکھنا ساکھ کے لیے ضروری ہے۔

اداروں کے حوالے سے سید نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایسا مواد تخلیق کریں جو معلوماتی، تعلیمی یا لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے والا ہو۔ انہوں نے وضاحت کی کہ شفافیت اور اصلیت اعتماد پیدا کرتی ہے، جو کسی بھی ادارے کے لیے اہم ہے۔

یو اے ای گورنمنٹ میڈیا آفس کی وائس چیئرپرسن عالیہ الحمادی نے سوشل میڈیا اخلاقیات کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مواد تخلیق کرنے والوں کو تربیت دیتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر کیسے ردعمل دیں اور کام کریں۔ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ مواد درست ذرائع سے حاصل کیا جائے اور غیر ذمہ داری سے یا گمنامی میں پوسٹ نہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button