متحدہ عرب امارات

دبئی: آن لائن تھراپی، ایپس اور ویئریبل ٹیکنالوجی ذہنی صحت کی سہولیات میں بہتری لائیں گی

خلیج اردو
دبئی:دبئی میں ذہنی صحت کی سہولیات میں ڈیجیٹل خدمات کو تیزی سے شامل کیا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے چلنے والے ٹیلی تھراپی حل متعارف کروائے جا رہے ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ذہنی صحت کے تجزیے اور محفوظ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ریموٹ مشورے شامل ہیں۔ یہ اقدامات لوگوں کو اپنے گھروں میں رہتے ہوئے ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا موقع دیتے ہیں۔

دبئی ہیلتھ اتھارٹی نے حال ہی میں نئے معیارات کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد ڈیجیٹل ہیلتھ سروسز اور ٹیلی تھراپی کو شامل کرنا ہے۔ یہ معیارات عالمی سطح پر ورچوئل کیئر کے رہنما اصولوں کو اپنانے کے لیے بنائے گئے ہیں تاکہ اعلیٰ معیار کی ذہنی صحت کی مشاورت فراہم کی جا سکے اور مریضوں کی رازداری اور خدمات تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان نئے معیارات کے تحت دبئی کے اسپتال اور کلینکس اپنی ٹیلی میڈیسن سروسز کو بہتر بنا رہے ہیں، جس کے ذریعے مریض لائسنس یافتہ ذہنی صحت کے ماہرین سے ورچوئل مشورہ لے سکتے ہیں۔

برجیل ہولڈنگز کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر مہیش سرسنبتی کے مطابق یہ ایک نئے دور کا آغاز ہوگا اور ذہنی صحت کی سہولیات میں بہتری آئے گی۔ اس سے ذہنی صحت کے مسائل سے جڑے بدنامی کے تاثر کو ختم کرنے میں مدد ملے گی اور خدمات تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام لوگوں کو اپنے گھریلو ماحول میں زیادہ محفوظ اور پُرسکون محسوس کرنے میں مدد دے گا، جس سے علاج میں شرکت اور عملدرآمد بہتر ہوگا۔

نئے معیارات ثبوت پر مبنی علاج کے اصولوں پر زور دیتے ہیں، جو عالمی ادارہ صحت اور امریکن سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن کی سفارشات سے لیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد تحقیق پر مبنی مؤثر علاج فراہم کرنا ہے۔

دبئی ہیلتھ اتھارٹی نے لائسنسنگ اور رجسٹریشن کے لیے واضح رہنما اصول بھی متعارف کرائے ہیں تاکہ خدمات کو اہل ماہرین کے ذریعے فراہم کیا جائے۔

دبئی میں ذہنی صحت کی سہولیات میں مزید جدت لاتے ہوئے مصنوعی ذہانت پر مبنی ذہنی صحت کے تجزیے، ذہنی علاج کے لیے موبائل ایپس اور مریضوں کی جذباتی صحت کی نگرانی کے لیے ویئریبل ٹیکنالوجی شامل کی جا رہی ہے۔

زلیخا اسپتال میں ماہر نفسیات ڈاکٹر راگا سندھیا نے وضاحت کی کہ یہ ٹیکنالوجی مریضوں اور ذہنی صحت کے ماہرین کے درمیان خلا کو کم کرتی ہے اور بروقت مداخلت کو یقینی بناتی ہے۔

دبئی ہیلتھ اتھارٹی نے ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارمز کے ذریعے لائسنس یافتہ ماہرین کی دستیابی کو بھی آسان بنایا ہے، جس سے مریضوں کے انتظار کا وقت کم ہوا ہے۔

حکومت نے نجی شعبے کے ساتھ مل کر ذہنی صحت کی ڈیجیٹل سہولیات کو زیادہ مؤثر اور سستی بنانے کا بھی انتظام کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹولز جیسے کہ ریموٹ مشاورت، مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیات اور موبائل ایپس مسلسل نگرانی اور بروقت مداخلت میں مدد فراہم کریں گے۔ تاہم شدید نوعیت کے کیسز کے لیے روایتی طریقہ علاج ضروری رہے گا۔

دبئی ہیلتھ اتھارٹی کے قائم مقام سی ای او ڈاکٹر یونس کاظم نے وضاحت کی کہ یہ معیارات عالمی تنظیموں کے تعاون سے تیار کیے گئے ہیں تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں اور مقامی رازداری کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔

ہیلتھ اسٹینڈرڈ آرگنائزیشن کینیڈا کی ایگزیکٹو نائب صدر کیٹرینا تاراسوا نے دبئی ہیلتھ اتھارٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نئے معیارات دبئی کے صحت کے نظام میں ذہنی صحت کی خدمات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button