
خلیج اردو
دبئی: دبئی میں ہفتے کے پہلے تجارتی روز کے آغاز پر سونے کی قیمت میں ایک درہم فی گرام کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ دبئی جیولری گروپ کے مطابق پیر کی صبح 24 قیراط سونا 389 درہم فی گرام پر فروخت ہو رہا تھا، جو کہ ویک اینڈ کے دوران 390 درہم فی گرام پر دستیاب تھا۔
دیگر اقسام میں 22 قیراط سونا 360.25 درہم، 21 قیراط 345.25 درہم اور 18 قیراط سونا 296 درہم فی گرام پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں پیر کی صبح 9 بجے (یو اے ای وقت کے مطابق) سونا 0.36 فیصد کمی کے ساتھ 3,226.63 امریکی ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ واضح رہے کہ 11 اپریل کو سونے کی قیمت 3,245.28 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی۔
سرمایہ کاروں نے سونے کی قیمت میں کمی کو خریداری کے موقع کے طور پر اپنایا ہے۔ گزشتہ دو سیشنز کے دوران، دنیا کے سب سے بڑے فزیکل گولڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ SPDR Gold Trust (GLD) میں 2.36 ارب ڈالر سے زائد کی مثبت سرمایہ کاری دیکھی گئی، جو فروری 2023 کے بعد سے سب سے بڑی سطح ہے۔
XS.com کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار سامر حسن کے مطابق سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بڑی وجہ تجارتی جنگ کی شدت میں اضافہ اور اس کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں میں تضاد، ٹیرف سے متعلق متنازع فیصلے، اور عالمی و امریکی معیشت پر ممکنہ اثرات نے سرمایہ کاروں کو غیر یقینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
سامر حسن نے مزید کہا کہ "تجارتی جنگ اس نہج پر پہنچ گئی ہے جہاں چین نے بھی امریکہ سے درآمدات پر محصولات بڑھا دیے ہیں۔ اس باہمی سختی نے سفارتی حل کی امیدیں مزید کمزور کر دی ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر کے ممالک کو 90 روزہ ٹیرف ریلیف دینے کا فیصلہ بھی مارکیٹ کے خدشات کو کم نہ کر سکا، کیونکہ چین کے ساتھ تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا۔”







