
خلیج اردو
ابوظبہی: ابوظہبی گلوبل مارکیٹ نے ہیوِن گروپ آف کمپنیز، اس کے سابق سی ای او کرسٹوفر فلینوس اور متعلقہ اداروں پر سخت مالی سزائیں عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں اور بدانتظامی پر کارروائی کی ہے۔
فنانشل سروسز ریگولیٹری اتھارٹی نے تحقیقات میں انکشاف کیا کہ تین منسلک کمپنیوں اور فلینوس کی جانب سے سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں تاہم اس بدانتظامی کے نتیجے میں کوئی اے ڈی جی ایم کلائنٹ مالی نقصان کا شکار نہیں ہوا۔
فارسا نے ہیوِن اے ڈی جی ایم کا مالیاتی لائسنس منسوخ کرتے ہوئے فلینوس پر تاحیات مالیاتی خدمات کے کسی بھی کردار کی انجام دہی پر پابندی عائد کر دی ہے اور چاروں فریقین پر مجموعی طور پر 8.85 ملین ڈالر (32.5 ملین درہم) کے جرمانے عائد کیے ہیں۔
علاوہ ازیں، کیمین آئی لینڈز میں رجسٹرڈ اے سی ہولڈنگ لمیٹڈ پر 3.6 ملین ڈالر، ہیوِن اے ڈی جی ایم پر 3 ملین ڈالر، اے سی ہولڈنگ پر ایک اور جرمانہ 1.5 ملین ڈالر، اور فلینوس پر 750,000 ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
فارسا کے سی ای او ایمانوئل گیواناکِس کے مطابق یہ اقدامات اس لیے ضروری تھے کیونکہ ملزمان نے بغیر لائسنس کے ورچوئل اثاثہ جات کی سرگرمیاں کیں اور فلینوس نے تحقیقات کے دوران جھوٹی معلومات فراہم کیں، جو ادارے کی سالمیت کو متاثر کرنے والا سنگین جرم ہے۔
علاوہ ازیں اے ڈی جی ایم کی رجسٹریشن اتھارٹی نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ اے سی ہولڈنگ لمیٹڈ نے اپنے تجارتی لائسنس کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے سرمایہ کاری کمپنی کا کردار ادا کیا، کرپٹو کرنسی کی تبدیلی کے لین دین کیے اور 2019 سے 2022 تک جعلی سالانہ مالی گوشوارے جمع کروائے۔
رجسٹریشن اتھارٹی نے فلینوس پر جھوٹی معلومات فراہم کرنے، فراڈ پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، اور جعلی دستاویزات کی فراہمی کے باعث 3.615 ملین ڈالر کے اضافی جرمانے عائد کیے، جن میں سے 3.3 ملین ڈالر صرف فلینوس کے خلاف ہیں۔
ریگولیٹری اداروں نے واضح کیا ہے کہ ہیوِن اے ڈی جی ایم نے اپنے مالیاتی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا اور کلائنٹس کے لین دین کو بغیر ضابطہ کے ادارے AC ہولڈنگ کے ذریعے گزارا، جو کہ منی لانڈرنگ قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اے ڈی جی ایم نے مزید کہا کہ فلینوس نہ صرف ان تمام سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے تھے بلکہ انہوں نے 200 سے زائد جعلی دستاویزات تیار کروائیں تاکہ اکاونٹ ہولڈنگ کے بینک اکاؤنٹس کو قائم رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ تحقیقات کے دوران فارسا کو بھی گمراہ کن معلومات فراہم کی گئیں۔
ریگولیٹری حکام نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی مالیاتی نظام کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے اسی طرح کے سخت اقدامات جاری رکھیں گے۔







