
خلیج اردو
شارجہ: شارجہ کے النہدہ علاقے میں بلند رہائشی عمارت میں لگی آگ کے دوران جان سے جانے والے کینیا کے شہری "بی کے” کو ان کے دوست صرف ایک متاثرہ فرد نہیں بلکہ ایک سچے ہیرو کے طور پر یاد کر رہے ہیں، جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر دوسروں کو بچنے کا موقع دیا۔
بی کے، جن کی عمر تیس کے لگ بھگ تھی، 52 منزلہ عمارت کی 44ویں منزل پر اپنے دس ساتھیوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ ان کے قریبی دوست ایبی کے مطابق، وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے صبح کے وقت کمرے میں دھواں آتے دیکھا۔ "وہ ویک اینڈ تھا، سب سو رہے تھے، بی کے نے چیخ کر ہمیں جگایا اور کہا کہ فوراً باہر نکلو،” ایبی نے بتایا۔
دھواں تیزی سے پھیل چکا تھا، اندھیرا، گھٹن، کھانسی، کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس سب کے باوجود بی کے پُر سکون رہے، سب کو نیچے جھک کر سانس لینے اور چہروں کو ڈھانپنے کی تلقین کی۔
ریسکیو ٹیمیں پہنچنے سے قبل وہ شاید کسی ممکنہ راستے کی تلاش میں کھڑکی کے قریب پہنچے۔ خیال ہے کہ انہوں نے عمارت کے maintenance cables کو دیکھا اور نیچے اترنے کی کوشش کی، مگر توازن کھو بیٹھے اور گر کر جاں بحق ہو گئے۔
ایبی نے کہا، "جب ہمیں نیچے لایا گیا تو پتہ چلا کہ کسی نے چھلانگ لگائی تھی۔ بعد میں پتا چلا وہ بی کے تھے۔ ہم سب سکتے میں تھے۔ وہی تو تھا جس نے ہمیں جگایا اور بچنے کا موقع دیا۔”
بی کے، جو ایک مال میں کام کرتے تھے اور پہلے ہیئر اسٹائلسٹ بھی رہ چکے تھے، ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہتے، سب کی دلجوئی کرتے۔ ان کے دوستوں کے مطابق وہ صرف ایک روم میٹ نہیں بلکہ دوست، دعا کے ساتھی، اور ہنسی خوشی بانٹنے والا شخص تھا۔






