
خلیج اردو
دبئی: روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے میٹرو اسٹیشنز تک رسائی کے لیے نئی الیکٹرک بس کا آزمائشی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ یہ بس سروس روٹ ایف 13 پر چلائی جا رہی ہے، جو القوز بس ڈپو سے شروع ہو کر برج خلیفہ، دی پیلس ڈاؤن ٹاؤن ہوٹل، اور دبئی فاؤنٹین جیسے اہم مقامات سے گزرتی ہے اور دبئی مال میٹرو بس اسٹاپ (ساؤتھ) پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔
یہ الیکٹرک بس جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جس میں روایتی آئینوں کی جگہ ہائی ڈیفینیشن کیمرے اور اسکرینز، اور ڈرائیور کی سہولت کے لیے فرنٹ ونڈ اسکرین پر معلومات دکھانے والی ٹرانسپیرنٹ ہیڈ اپ ڈسپلے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بس میں کئی دیگر ذہین اور جدید نظام بھی موجود ہیں۔
آر ٹی اے کا مقصد ہے کہ 2050 تک تمام پبلک ٹرانسپورٹ کو زیرو ایمیشن سفری نظام میں تبدیل کیا جائے، اور یہ منصوبہ دبئی بھر میں ماحول دوست، سمارٹ اور پائیدار ٹرانسپورٹ یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
بس کو دبئی کے مقامی موسمی حالات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس میں جدید ترین ٹیکنالوجی جیسے اعلیٰ درجے کا ایئر کنڈیشننگ سسٹم اور 470 کلو واٹ آور کی بیٹری شامل ہے، جو آر ٹی اے کے بیڑے میں اب تک آزمائی گئی تمام بسوں میں سب سے زیادہ گنجائش رکھتی ہے۔ ایک بار مکمل چارج پر یہ بس 370 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہے۔ یہ 12 میٹر لمبی سٹی بس ہے، جس میں 76 مسافروں کی گنجائش ہے، جن میں سے 41 نشستوں اور 35 کھڑے ہونے کی سہولت ہے۔
آر ٹی اے کے پبلک ٹرانسپورٹ ایجنسی میں بسز کے ڈائریکٹر مروان الزرعونی نے کہا کہ "نئی بس میں شامل جدید ٹیکنالوجیز، جنہیں وولوو نے تیار کیا ہے، آر ٹی اے کو مستقبل کی بسوں کے لیے نئے تصورات اور معیارات اپنانے میں مدد دیں گی، جس سے بس سروس کی کارکردگی اور حفاظت بہتر ہو گی۔”
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس آزمائش کے دوران اصل مسافروں کے ساتھ بس کو چلایا جائے گا تاکہ کاربن اخراج میں کمی، مکمل چارج پر حاصل ہونے والی رینج، اور مختلف موسمی حالات، خاص طور پر گرمیوں میں، بس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔
مروان الزرعونی نے کہا کہ "بسوں کے بیڑے کی توسیع، ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور انفرااسٹرکچر کی بہتری میں ہماری سرمایہ کاری اس عزم کی عکاسی ہے کہ ہم پبلک ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کریں اور سروس کا معیار اور مسافروں کا تجربہ بہتر بنائیں۔ ہمارا عزم ہے کہ ہم سب کے لیے پائیدار، موثر اور آرام دہ سفری سہولیات فراہم کرتے رہیں گے۔






