متحدہ عرب امارات

اے آئی نے انسان کو شکست دے دی: ابوظبی میں ڈرون ریس میں تاریخی کامیابی

خلیج اردو
ابوظبی – اپریل 17، 2025
ابوظبی میں ہونے والی بین الاقوامی ڈرون ریسنگ چیمپئن شپ میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈرون نے انسانی پائلٹ کو شکست دے کر نئی تاریخ رقم کر دی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اس قدر بڑے پیمانے پر منعقدہ مقابلے میں اے آئی نے انسانی مہارت کو پیچھے چھوڑ دیا۔

ٹیم MavLab، جو نیدرلینڈز کی ڈیلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی نمائندگی کر رہی تھی، نے "AI vs Human Challenge” میں عالمی سطح کے انسانی پائلٹ کو ہرا کر مقابلہ جیت لیا۔ یہ ریس A2RL (ابوظبی آٹونومس ریسنگ لیگ) اور DCL (ڈرون چیمپئنز لیگ) کے تحت منعقد ہوئی۔

رفتار، مہارت اور اے آئی کا کمال
ٹیم MavLab نے AI Grand Challenge میں بھی کامیابی حاصل کی، جہاں اس کے ڈرون نے 170 میٹر کے کورس پر دو چکر صرف 17 سیکنڈ میں مکمل کیے۔ اسی ٹیم نے دنیا کی پہلی AI-only ڈریگ ریس جیت کر تیز رفتاری اور کنٹرول کا مظاہرہ کیا۔

مقابلے میں شامل تمام ڈرون ایک ہی قسم کے تھے، جن میں Nvidia Jetson Orin NX کمپیوٹنگ ماڈیول، ایک سامنے کی جانب کیمرہ اور انرشیل میژرمنٹ یونٹ (IMU) نصب تھے۔ اس بار کی خاص بات یہ تھی کہ ڈرونز کو صرف ایک forward-facing کیمرہ دیا گیا تھا، جیسا کہ انسانی FPV پائلٹس استعمال کرتے ہیں، جو AI کے لیے اضافی چیلنج بن گیا۔

انسان بمقابلہ اے آئی – حقیقی دنیا میں پہلا بڑا ٹیسٹ
اس ریس کو تکنیکی لحاظ سے ایک نیا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں نہ صرف انسانی پائلٹس کو چیلنج کیا گیا بلکہ ڈرونز نے مکمل طور پر خودکار فیصلوں کی بنیاد پر 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے مشکل کورس عبور کیا۔

ریس کے منتظمین کے مطابق، کورس کو خاص طور پر ایسے ڈیزائن کیا گیا تھا جہاں روشنی کم، نشانات محدود اور گیٹ مختلف فاصلے پر رکھے گئے تھے تاکہ اے آئی کی صلاحیت کو سخت جانچ کا سامنا ہو۔

تحقیق اور مستقبل کی سمت
ٹیم لیڈر کرسٹوف ڈی ویگٹر کے مطابق، "یہ کامیابی نہ صرف ہماری برسوں کی محنت کا ثمر ہے بلکہ یہ AI کے لیے ایک نیا دروازہ بھی کھولتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے یہ سسٹمز مستقبل میں روبوٹکس، ڈلیوری، ریسکیو مشنز، اور خودکار گاڑیوں میں بھی استعمال ہوں گے۔

مقامی شرکت اور تربیت
اسی دوران، A2RL x DCL Drone STEM پروگرام کے تحت 100 سے زائد اماراتی طلبا کو ڈرونز اور AI ٹیکنالوجی کی تربیت دی گئی۔ یہ پروگرام Unicef کے تعاون سے اور UAE کے ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی ریسرچ کونسل (ATRC) کے زیر نگرانی چلایا گیا۔

ATRC کے سیکریٹری جنرل فیصل البنائی نے کہا، "ہم مانتے ہیں کہ جدت کو صرف وعدہ نہیں بلکہ حقیقت میں ثابت کرنا ضروری ہے، اور A2RL اس کا عملی مظاہرہ ہے۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button