
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں 2025 کے دوران ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور سڑکوں پر حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے چار اہم شاہراہوں پر اسپیڈ لمٹس میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا ہے۔ شہریوں کو ان نئی حد رفتار سے آگاہ رہنا ضروری ہے تاکہ جرمانوں اور بلیک پوائنٹس سے بچا جا سکے۔
حکام کے مطابق یہ تبدیلیاں نہ صرف زیادہ سے زیادہ رفتار پر لاگو ہوئیں بلکہ بعض شاہراہوں پر بائیں جانب کی لین میں کم سے کم رفتار کی حد بھی ختم کر دی گئی، جو بہت سے ڈرائیورز کے لیے باعثِ راحت ہے۔
شیخ محمد بن راشد روڈ (ای311) پر پہلے بائیں لین میں کم از کم رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی، اور اس سے کم پر گاڑی چلانے پر 400 درہم جرمانہ عائد ہوتا تھا۔ مگر 14 اپریل کو ڈرائیورز نے مشاہدہ کیا کہ یہ کم از کم حد رفتار کے نشان ہٹا دیے گئے ہیں۔ اس تبدیلی کا مقصد ہیوی ٹرکوں کی روانی کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم، اس شاہراہ پر زیادہ سے زیادہ رفتار اب بھی 140 کلومیٹر فی گھنٹہ برقرار ہے۔
شیخ محمد بن راشد روڈ (ای311) ہی پر ایک اور تبدیلی کے تحت 14 اپریل سے زیادہ سے زیادہ رفتار کو 120 سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دیا گیا ہے، یعنی 20 کلومیٹر کی واضح کمی۔ اس شاہراہ کو انٹرنیشنل ایئرپورٹ روڈ (ای20) بھی کہا جاتا ہے۔
اسی طرح، 14 اپریل سے یو اے ی کی طویل ترین شاہراہ ای11 پر بھی رفتار میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس شاہراہ پر حد رفتار کو 160 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دیا گیا ہے۔ یہ شاہراہ ابوظہبی، دبئی، شارجہ، عجمان اور راس الخیمہ کو آپس میں ملاتی ہے اور دبئی میں اسے شیخ زاید روڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
سال کے آغاز میں راس الخیمہ میں شیخ محمد بن سالم اسٹریٹ کے ایک حصے پر بھی رفتار میں کمی کی گئی۔ شیخ محمد بن زاید راؤنڈ اباؤٹ (الرفاع) سے المرجان آئی لینڈ راؤنڈ اباؤٹ تک کی حد رفتار کو 100 سے کم کر کے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کیا گیا۔ یہ فیصلہ تیز رفتاری سے ہونے والے حادثات کی روک تھام کے لیے لیا گیا۔ ساتھ ہی ریڈار کی حد رفتار بھی 121 سے کم کر کے 101 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔






