
خلیج اردو
دبئی: 22 اپریل — دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آٹزم سے متاثرہ بچوں کے والدین نے سفر کے دوران درپیش مشکلات، تیاریوں اور معاون سہولیات سے متعلق اپنے تجربات شیئر کیے ہیں۔ ایئرپورٹ کی جانب سے پیش کردہ مختلف سہولیات، خاص طور پر DPNA کوڈ اور سن فلاور لینیارڈ، ان خاندانوں کیلئے مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
یاسمین کیری، جن کے بیٹے ایلس کو آٹزم ہے، نے بتایا کہ منصوبہ بندی سفر کا بنیادی حصہ ہے۔ "میری سب سے اہم تجویز یہ ہے کہ ایئرلائن سے پہلے رابطہ کر کے اپنی بکنگ میں DPNA کوڈ شامل کروائیں۔ یہ کوڈ عملے کو پیشگی اطلاع دیتا ہے کہ مسافر کو ذاتی نوعیت کی معاونت درکار ہو گی،” انہوں نے کہا۔
یاسمین اپنے بیٹے کے لیے ویژول ٹریول شیڈول بناتی ہیں، اور ایسی پروازیں چنتی ہیں جو اس کے معمولات سے میل کھاتی ہوں۔ وہ ایئرپورٹ کی ویب سائٹ اور ٹریول پلانر سے معلومات حاصل کر کے تیاری مکمل کرتی ہیں۔ ایلس کی سنسری ضروریات کے لیے وہ شور کم کرنے والے ہیڈفون، فیجٹ کھلونے، اور سن گلاسز ساتھ رکھتی ہیں۔ "جو کسی کو ‘میلداؤن’ لگتا ہے، وہ دراصل بچے کا خود کو سنبھالنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ ہم خصوصی سلوک نہیں چاہتے، صرف تھوڑی سی سمجھ بوجھ درکار ہے،” یاسمین نے وضاحت کی۔
معروف ریڈیو میزبان حسن دناؤی عرف "بگ ہاس” نے بھی اپنے آٹزم سے متاثرہ بیٹے کے ساتھ سفر کی ویڈیو شیئر کی۔ وہ کہتے ہیں، "سفر کی تیاری ہمیشہ وقت سے پہلے شروع کر دیں۔ بچے کو پوری سفری منصوبہ بندی سمجھائیں، کاؤنٹ ڈاؤن بنائیں، اور ساتھ مل کر خوشی پیدا کریں۔”
حسن نے دبئی ایئرپورٹس سے "ٹریول سفاری” پروگرام کے تحت پیشگی ریہرسل کا فائدہ اٹھایا تاکہ ان کا بیٹا خود کو ایئرپورٹ کے ماحول سے مانوس کر سکے۔ انہوں نے سفر کے دن جلدی نکلنے اور پرسکون رہنے کی اہمیت پر زور دیا۔ چیک لسٹ میں پسندیدہ کھانے، آرام دہ اشیاء، تفریحی ڈیوائسز، چارجرز، اور اضافی کپڑے شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے سن فلاور لینیارڈ کی بھی بھرپور سفارش کی، جو ایئرپورٹ پر آسانی سے سفر کرنے میں مدد دیتا ہے۔
"آٹزم سے متاثرہ لوگ دل میں نفرت نہیں رکھتے۔ اگر آپ آٹزم کو سمجھ لیں، تو ان لوگوں کے دلوں کو بھی سمجھ سکیں گے، اور یہی سب سے خوبصورت بات ہے،” بگ ہاس نے کہا۔
ایمبرین سہیب، جو اپنے آٹزم سے متاثرہ بچے کے ساتھ سفر کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ وہ ایک مخصوص بیگ تیار کرتی ہیں جس میں سنسری کھلونے، آئی پیڈ، اسنیکس، شور کم کرنے والے ہیڈفون، اور اضافی کپڑے ہوتے ہیں۔ "سن فلاور لینیارڈ حاصل کرنا ضروری ہے — چاہے بچہ نہ پہنے، آپ پہن سکتے ہیں تاکہ مدد حاصل ہو سکے،” انہوں نے مشورہ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایئرپورٹ کا نقشہ پہلے سے دیکھ لیں، خاندان کے ساتھ ذمہ داریاں بانٹ لیں، اور اگر ترجیح ہے تو پہلے یا آخر میں بورڈنگ کی درخواست عملے کو دیں۔ انہوں نے کہا کہ امیگریشن اور پولیس لائنز میں سن فلاور نشان تلاش کریں، جو ترجیحی راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ چونکہ ایک سرٹیفائیڈ آٹزم سینٹر ہے، اس لیے یہاں آٹزم سے متاثرہ مسافروں کے لیے مختلف سہولیات موجود ہیں، جن میں ترجیحی لائنز، آسان چیک اِن، اور حساس ماحول شامل ہیں۔
"آٹزم ہمیشہ نظر نہیں آتا۔ ہو سکتا ہے آپ نہ دیکھ سکیں، لیکن یہ موجود ہوتا ہے۔ بچوں کی حرکتیں جیسے جھومنا، تالی بجانا، یا آواز نکالنا، دراصل خود کو سنبھالنے کا طریقہ ہیں۔ میلداؤن خراب رویہ نہیں، پریشانی کی علامت ہوتا ہے۔ براہ کرم گھوریں نہیں۔ صرف مہربان بنیے۔






