
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں گھر پر پٹرول پہنچانے والی معروف سروس کیفو نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات 24 اپریل صبح 6 بجے سے فیول ڈیلیوری پر اضافی چارجز دوبارہ لاگو کر رہی ہے۔ یہ تصدیق کمپنی کے کال سینٹر ایجنٹ نے بدھ کے روز خلیج ٹائمز سے گفتگو میں کی۔
کیفو نے اپنی ایپ کے ذریعے صارفین کو مطلع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ "ایک چھوٹی سی تبدیلی ہے تاکہ ہم خدمات کو درست طریقے سے جاری رکھ سکیں”۔ کمپنی کے نوٹ میں مزید کہا گیا:
"ہم کئی سالوں سے ایندھن اور کار سروسز آپ کے دروازے تک مفت پہنچاتے آ رہے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ایسی سروس کو شہر بھر میں 24/7 معیاری انداز میں برقرار رکھنا پردے کے پیچھے خاصی محنت کا متقاضی ہے۔”
نئی ڈیلیوری فیسیں درج ذیل ہوں گی:
20 درہم: ارجنٹ ڈیلیوری (20 منٹ کے اندر)
16 درہم: معیاری ڈیلیوری (30 منٹ سے ایک گھنٹے کے درمیان)
12 درہم: رات کی ڈیلیوری (رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک)
کمپنی نے مزید وضاحت کی کہ ایندھن کی قیمتیں وہی رہیں گی جیسی کہ کسی بھی یو اے ای کے پٹرول اسٹیشن پر لاگو ہوتی ہیں۔
کمپنی کا مؤقف: "یہ فیصلہ ہم نے آسانی سے نہیں کیا اور نہ ہی اسے چھپایا جا رہا ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ یہ اقدام سروس کو مضبوط، تجربے کو ہموار اور صارفین کے وقت کی قدر کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔”
پس منظر: کیفو کو 2018 میں ٹیکنالوجی کے ماہر راشد الغریر نے قائم کیا تھا۔ 2020 میں وبا کے دوران کمپنی نے مفت ڈیلیوری سروس کا آغاز کیا جس سے اس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کے بعد کمپنی نے موبائل کار واش، آئل چینج، بیٹری اور ٹائر کی تبدیلی جیسی سہولیات بھی متعارف کروائیں۔ 2022 میں ایمرجنسی فیول سروس بھی پیش کی گئی، جبکہ حال ہی میں الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کی سہولت اور تیز تر ترجیحی سروس بھی شامل کی گئی۔
صارفین کا ردعمل: دبئی کی رہائشی شینا جی نے کہا کہ وہ اس سروس کی مداح ہیں اور اگر چارجز معمولی ہوں تو وہ خوشی سے ادا کریں گی، خاص طور پر چونکہ وہ مصروف ماں ہیں اور وقت بچانے کے لیے سہولت کو ترجیح دیتی ہیں۔
دوسری جانب بھارتی شہری محمد خان نے کہا کہ وہ ابھی انتظار اور مشاہدے کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ "میں دو سال سے پٹرول اسٹیشن نہیں گیا، اب دیکھوں گا کہ چارجز کتنے ہیں، پھر فیصلہ کروں گا۔







