متحدہ عرب امارات

ابوظبی میں عالمی بیلے رقاصوں کی شاندار پرفارمنس، کلاسیکی و جدید رقص کا حسین امتزاج

خلیج اردو
ابوظبی – ابوظبی کے نیویارک یونیورسٹی تھیٹر میں عالمی شہرت یافتہ بیلے رقاصوں نے کلاسیکی اور جدید رقص کا دلکش امتزاج پیش کر کے ناظرین کو سحر میں مبتلا کر دیا۔ یہ شاندار بیلے گالا شو ابو ظبی فیسٹیول کے زیر اہتمام منعقد ہوا، جس کا مقصد بیلے کی صدیوں پر محیط تاریخ کو جدید انداز میں پیش کرنا تھا۔

تقریب کے آرٹسٹک ڈائریکٹر توماس جاکسک بیگڈورف کے مطابق، یہ شو بیلے کے مختلف اسالیب کو اکٹھا کر کے اس فن کی گہرائی اور تنوع کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ابوظبی فیسٹیول کے لیے ان کا پہلا ڈانس پراجیکٹ ہے، اور وہ مستقبل میں مشرق وسطیٰ کے رقاصوں کے ساتھ بھی تعاون کے خواہاں ہیں۔

پروگرام میں کلاسیکی شاہکار جیسے ’سوان لیک‘ اور ’جیزیل‘ کے علاوہ جدید رقص کے نمونے بھی شامل تھے جنہیں معروف کوریوگرافرز کرسٹوفر وہیلڈن اور مارکو گوئکے نے ترتیب دیا تھا۔

پیرس اوپیرا بیلے کی ممتاز رقاصہ لینور بالاک اور ان کے ساتھی میتھیو گانیو نے ’جیزیل‘ اور ’بالنچین‘ کی تخلیق ’ہُو کیئرز؟‘ سے اقتباسات پیش کیے۔ بالاک نے بیلے کو فرانسیسی شناخت کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابوظبی میں پرفارم کرنا ان کے لیے ایک نیا اور دلچسپ تجربہ ہے۔

اس موقع پر اسٹٹگارٹ بیلے کے مرکزی رقاص مارٹی پائشا نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بیلے ’ونیگن‘ پیش کیا، جسے وہ ذاتی طور پر بہت اہمیت دیتے ہیں کیونکہ یہ ان کے تھیٹر کی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔

پرفارمنس کے دوران بیلے کی دنیا کے مختلف مکتبہ ہائے فکر جیسے فرانسیسی، روسی اور برطانوی انداز کو ایک ہی اسٹیج پر دیکھنے کا موقع ملا، جو اس گالا کو بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد ثقافتی تجربہ بناتا ہے۔

توماس بیگڈورف نے اعتراف کیا کہ عالمی رقاصوں کو یکجا کرنا ایک مشکل عمل تھا، مگر ابوظبی میں ملنے والی محبت اور مہمان نوازی نے تمام تھکن دور کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شو خوشی، غم، سنجیدگی اور جوش جیسے جذبات کو اجاگر کرتا ہے، اور ناظرین کو ایک نئے جہان میں لے جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button