متحدہ عرب امارات

شارجہ میں ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ نہ دینا قابل سزا جرم قرار، 3 ہزار درہم جرمانہ اور 30 دن کی گاڑی ضبطی

خلیج اردو
شارجہ:
شارجہ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ ایمبولینس، فائر بریگیڈ یا دیگر ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ نہ دینا انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، اور اس غفلت پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

جنرل ڈیپارٹمنٹ آف پریوینشن اینڈ کمیونٹی پروٹیکشن کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر احمد حاجی السرکل نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "ابھی بھی بہت سے ڈرائیور ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ دینے میں ناکام ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ریسکیو آپریشنز تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، چاہے وہ آگ ہو، ڈوبنے کا واقعہ ہو یا ٹریفک حادثہ۔”

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "ایمرجنسی میں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے، تاخیر زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتی ہے۔”

وزارت داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق 2024 میں متحدہ عرب امارات میں 325 ایسے حادثات پیش آئے جو ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ نہ دینے کے باعث ہوئے۔ ان میں سب سے زیادہ دبئی (160)، ابوظہبی (107)، عجمان (31)، شارجہ (17)، راس الخیمہ (5)، ام القوین (3) اور فجیرہ (2) میں رپورٹ ہوئے۔

شارجہ سول ڈیفنس اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کرنل سمیع النقیبی نے کہا: "ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ دینا صرف ایک قانون نہیں بلکہ اخلاقی فرض بھی ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایمرجنسی گاڑی سرخ اشارے پر پیچھے سے آ رہی ہو تو ڈرائیورز احتیاط سے زرد خانے (پیدل چلنے والوں کے راستے) میں داخل ہو سکتے ہیں تاکہ راستہ دیا جا سکے۔

سزا کی تفصیل:
ایمرجنسی گاڑیوں کو راستہ نہ دینے پر 3,000 درہم جرمانہ
6 بلیک پوائنٹس
30 دن تک گاڑی ضبط کی جائے گی

اگر قدرتی آفات یا شدید موسمی حالات کے دوران امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی گئی تو مزید 1,000 درہم جرمانہ، 4 اضافی بلیک پوائنٹس، اور 60 دن کی ضبطی کی سزا دی جائے گی۔

حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس ضابطے کو صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ سمجھیں، کیونکہ ہر ڈرائیور کا کردار معاشرے کی اجتماعی حفاظت میں اہم ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button