متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات: نوجوانوں کو نوکریوں کے حصول میں کیوں مشکلات کا سامنا ہے؟ کیا ہماری بھرتی کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے؟

خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں نوجوان نوکری کے متلاشی افراد بڑھتی ہوئی مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ بنیادی تعلیمی اور فنی قابلیت کے باوجود وہ اکثر بھرتی کے عمل میں نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ فرسودہ بھرتی کے طریقہ کار، مصنوعی ذہانت پر حد سے زیادہ انحصار، اور سخت گیر ملازمت کی شرائط ہیں۔

ڈیجیٹل بھرتی ماہر دمتری زایتسیف، جو Dandelion Civilization کے بانی ہیں، کا کہنا ہے کہ "موجودہ نظام رفتار پر مرکوز ہے، صلاحیت کی پہچان پر نہیں۔”

انہوں نے کہا کہ نوجوان امیدوار اگرچہ رسمی قابلیت پر پورا اترتے ہیں، مگر موجودہ خودکار نظام ان کی ذہانت، لچک یا اندازِ فکر کا درست اندازہ نہیں لگا پاتے، جس کی وجہ سے باصلاحیت نوجوان اکثر نظرانداز ہو جاتے ہیں۔

زایتسیف نے زور دیا کہ "ملازمت کے عمل میں امیدوار سے مؤثر رابطہ اور ان کی شمولیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔”

رابطے کا فقدان
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ امیدواروں کو اکثر درخواست کے بعد کوئی جواب نہیں ملتا، جس سے ان میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان کی کوششوں کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ کیریئر کوچ لُبین جانسن کے مطابق، "جب کسی امیدوار کو جواب نہیں ملتا تو وہ خود کو مسترد شدہ محسوس کرتا ہے، جس سے مایوسی اور بےبسی جنم لیتی ہے۔”

مصنوعی ذہانت اور تعصب
بھرتی میں استعمال ہونے والے AI نظام عموماً سی وی، اداروں کے نام، اور پرانے کیریئر ماڈلز کی بنیاد پر کامیاب امیدواروں کو چنتے ہیں۔ یہ رجحان خاص طور پر نوجوان امیدواروں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے پاس روایتی تجربہ یا مشہور اداروں کا نام نہیں ہوتا۔ زایتسیف نے خبردار کیا کہ "AI اگرچہ بھرتی کا عمل تیز کرتا ہے، مگر اکثر امیدوار کی صلاحیتوں کے اہم پہلو نظرانداز کر دیتا ہے۔”

مزید برآں، زیادہ تر AI نظام یہ وضاحت بھی نہیں دیتے کہ امیدوار کیوں مسترد کیا گیا، جس سے بھرتی کے عمل میں شفافیت اور بھروسا متاثر ہوتا ہے۔

پرانے طرز کے جاب ڈسکرپشنز
بہت سی نوکریوں کے اشتہارات آج بھی تین سے پانچ سال کے تجربے کی شرط رکھتے ہیں، جو نئے گریجویٹس کے لیے غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیاں تربیت یا ابتدائی کیریئر میں سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں۔ زایتسیف کا کہنا ہے کہ "ہمیں امیدواروں کی جانچ کا ایک نیا طریقہ اپنانا ہوگا جو ان کی مکمل شخصیت کو پرکھ سکے۔”

تیزی سے ترقی پذیر شعبوں میں مسئلہ نمایاں
یہ مسئلہ خاص طور پر ٹیکنالوجی، مارکیٹنگ، لاجسٹکس اور ڈیجیٹل خدمات جیسے شعبوں میں زیادہ واضح ہے، جہاں جدت اور تیزی کی ضرورت ہے لیکن بھرتی کے نظام پرانے ہیں۔ ماہر تجزیہ کار ریچل مور نے کہا کہ "ادارے اب سمجھنے لگے ہیں کہ مستقبل کی کامیابی ان افراد پر منحصر ہے جو حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔”

نظام میں بہتری کی ضرورت
ماہرین کا کہنا ہے کہ اداروں کو موجودہ بھرتی کے نظام کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے، جو دس سے پندرہ سال پرانے ماڈلز پر مبنی ہیں۔ زایتسیف کے مطابق، متبادل جانچ کے طریقے جیسے گیمیفائیڈ اسسمنٹ، عملی چیلنجز، اور صورتِ حال پر مبنی امتحانات امیدوار کی تخلیقی سوچ، ٹیم ورک، اور لچک کو بہتر طور پر پرکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ٹیلنٹ کی جانچ صرف تکنیکی مہارت پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ امیدوار کی اقدار اور ادارے کے ساتھ ہم آہنگی کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ایک جدید اور ڈیٹا پر مبنی انداز سے نہ صرف بہتر ٹیمیں تشکیل دی جا سکتی ہیں بلکہ ادارے کے مستقبل کی بنیاد بھی مضبوط کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button