
خلیج اردو
الذید، شارجہ: شارجہ کے شہر الذید میں گزشتہ اتوار کو ایک منفرد اور دلچسپ مقابلے ’الرمضہ چیلنج‘ کا تیرہواں ایڈیشن منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے دوپہر کے شدید سورج تلے ننگے پاؤں جلتی ہوئی ریت پر چل کر اپنی قوتِ برداشت کو آزمایا۔
اس منفرد چیلنج میں شرکاء 150 سے 200 میٹر تک تپتی ہوئی صحرا کی ریت پر ننگے پاؤں چلتے ہیں، اور جو شخص بغیر کسی اصول کی خلاف ورزی کے پہلے اختتامی لکیر تک پہنچتا ہے، وہ فاتح قرار پاتا ہے۔ یہ مقابلہ شارجہ کی نمایاں ثقافتی کھیلوں میں سے ایک بن چکا ہے۔
’الرمضہ‘ عربی زبان کی اماراتی بولی میں ایسی ریت کو کہتے ہیں جو سورج کی شدت سے جھلس چکی ہو — اور یہی اس چیلنج کی اصل نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مقابلے کا تصور اماراتی مہم جو اور ’یو اے ای ایکسپلوررز ٹیم‘ کے بانی عوض بن مجرن نے پیش کیا، جنہوں نے اس کے آغاز سے قبل ماہر ڈاکٹروں سے مشورہ کیا تاکہ مقابلہ محفوظ اور صحت بخش ثابت ہو۔
خلیج ٹائمز سے گفتگو میں بن مجرن نے بتایا، ’’ہم نے یہ مقابلہ 2016 میں دبئی سے شروع کیا، پھر اسے العین، صحراوی علاقوں، فجیرہ، راس الخیمہ، اور شارجہ کے الذید تک وسعت دی۔ ہم یہاں تک کہ آسٹریلوی صحرا تک بھی پہنچے۔ ہم نے کامیابی سے صحرا کو ایک صحت بخش مقابلے میں تبدیل کر دیا۔‘‘
قواعد اور حفاظت کے اقدامات
شرکاء کو دوڑنے، چھلانگ لگانے، بے حسی پیدا کرنے والے مواد استعمال کرنے، پانی چھڑکنے یا جوتے پہننے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ہر 10 سے 15 میٹر پر آرام گاہیں بنائی گئی تھیں جبکہ طبی عملہ مقابلے کے دوران مکمل طور پر موجود رہا۔
اس سال کے مقابلے میں مختلف قومیتوں اور عمروں کے افراد نے بھرپور شرکت کی، جن میں سات خواتین بھی شامل تھیں۔ مقابلہ دس سال اور اس سے زائد عمر کے ہر فرد کے لیے کھلا ہوتا ہے، خواہ مرد ہو یا عورت۔
تقریب کا اختتام صحرا کے وسط میں روایتی اماراتی مردانہ رقص ’الرضفہ‘ کی تقریب اور انعامات کی تقسیم سے ہوا۔
طبی فوائد اور ثقافتی ورثہ
ماہر ڈاکٹروں کی جانب سے کی گئی طبی تحقیق کے مطابق یہ سرگرمی متعدد صحت بخش فوائد رکھتی ہے، جن میں برداشت بڑھانا، خون کی روانی اور نیند کے معیار میں بہتری، کولیسٹرول اور ذہنی دباؤ میں کمی، جوڑوں کی سوجن کا علاج، اور عام سطح پر چلنے کے مقابلے میں 20 سے 80 زیادہ کیلوریز جلانا شامل ہیں۔
یہ منفرد مقابلہ ’یو اے ای ایکسپلوررز ٹیم‘ کی جانب سے الذید بلدیہ اور میونسپل کونسل کے تعاون سے منعقد کیا جاتا ہے، جو اماراتی ثقافت اور ورثے کو اجاگر کرتے ہوئے مقامی ماحول کو ایک تخلیقی کھیل کے میدان میں تبدیل کرنے کی ایک بہترین مثال ہے۔







