
خلیج اردو
دبئی: العین میں متحدہ عرب امارات کی پہلی فلائنگ ٹیکسی کے آزمائشی مراحل آئندہ چند مہینوں میں شروع ہوں گے، جب کہ سال کے اختتام تک اس سروس کا باقاعدہ آغاز متوقع ہے۔ یہ اعلان پیر کے روز ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے کیا گیا۔
آرچر ایوی ایشن کے سی ای او ایڈم گولڈسٹین نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "تیسرے سہ ماہی کے آغاز پر آزمائشی مرحلہ شروع کیا جائے گا۔ ہم سالوں سے متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی (GCAA) کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جس نے ہمارے لیے ایک باقاعدہ ریگولیٹری راستہ طے کیا ہے۔ اب ہم منظوری کے آخری مراحل میں ہیں۔ ابتدائی پروازیں Al Ain میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کی جائیں گی، اور بعد ازاں اسے ابوظہبی منتقل کیا جائے گا۔”
یہ گفتگو انہوں نے 19 سے 22 مئی 2025 تک ابوظہبی کے ایڈی نیک سینٹر میں جاری "میک اِٹ ان دی امارات” نمائش و کانفرنس کے موقع پر کی۔
GCAA نے آرچر ایوی ایشن کے اُس ڈیزائن کی بھی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ابوظہبی کروز ٹرمینل کے ہیلی پیڈ کو ہیلی کاپٹر اور الیکٹرک فلائنگ ایئر کرافٹ (eVTOL) کی مشترکہ لینڈنگ کے لیے ہائبرڈ ہیلی پورٹ میں تبدیل کیا جائے گا۔
آرچر کی فلائنگ ٹیکسی "مڈنائٹ ایئرکرافٹ” کا ماڈل اس وقت ایڈی نیک سینٹر میں عوامی نمائش کے لیے موجود ہے، جہاں زائرین اس جدید ٹیکنالوجی کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔
ایڈم گولڈسٹین کا کہنا تھا: "ہماری خواہش ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے ابوظہبی میں اس فلائنگ ٹیکسی کا آغاز کریں۔ آغاز میں چھوٹے پیمانے پر سروس شروع کریں گے تاکہ نظام کی کارکردگی دیکھی جا سکے۔ مقامی برادری کو شامل کر کے اُنہیں اس ایئرکرافٹ کی حفاظت اور خاموشی کا تجربہ کرایا جائے گا، اور پھر وقت کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔”
سفر کا دورانیہ اور قیمت
فلائنگ ٹیکسی کے ذریعے دبئی سے ابوظہبی تک کا سفر، جو عام طور پر دو سے تین گھنٹے میں طے ہوتا ہے، اب صرف 15 سے 20 منٹ میں مکمل ہو سکے گا۔
کرایہ کے حوالے سے انہوں نے کہا: "ہماری ہدف قیمتیں وہی ہوں گی جو عام طور پر ہائی اینڈ رائیڈ شیئرنگ سروسز میں دیکھی جاتی ہیں۔”
مسافر آرچر ایوی ایشن کی موبائل ایپ یا ابوظہبی کے مقامی شراکت دار کی فراہم کردہ ایپ کے ذریعے اپنی فلائٹ بک کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ دبئی میں آرچر ایوی ایشن کی ہم پلہ کمپنی "جو بی ایوی ایشن” بھی فلائنگ ٹیکسی سروس کے آغاز پر کام کر رہی ہے۔
ایڈم گولڈسٹین کے مطابق: "مختلف آپریٹرز مختلف قیمتوں کی اسکیموں پر کام کر رہے ہیں، جیسا کہ رائیڈ شیئرنگ سروسز میں ہوتا ہے، اور یہ بھی طلب و رسد کے اصول پر طے ہوں گی۔”
اسمبلنگ اور مستقبل کے منصوبے
امریکی کمپنی آرچر ایوی ایشن رواں سال کے آخر میں متحدہ عرب امارات میں اپنی فلائنگ ٹیکسیز کی اسمبلنگ بھی شروع کرے گی۔
گولڈسٹین نے کہا: "ہم یہاں چھوٹے پیمانے پر اسمبلی شروع کریں گے، اور بتدریج اسے وسعت دیں گے۔ طویل مدتی مقصد یہ ہے کہ ہم ابوظہبی میں ہی پیداوار شروع کریں، روزگار کے مواقع پیدا کریں اور اس ٹیکنالوجی کو نہ صرف مقامی بلکہ عالمی منڈی میں فروخت کے قابل بنائیں۔”
فی الحال "مڈنائٹ ایئرکرافٹ” امریکہ میں تیار کیا جا رہا ہے، تاہم کمپنی یو اے ای کو ایک عالمی برآمدی مرکز بنانے کے وژن پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق: "یو اے ای کے بہت سے ممالک سے تجارتی معاہدے موجود ہیں، جن کے ذریعے یہاں تیار کردہ مصنوعات کو جی سی سی سے باہر بھی برآمد کیا جا سکتا ہے۔”
ایڈم گولڈسٹین نے ابوظہبی کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا: "ہم یہاں اگلا سیئیٹل یا ٹولُوز بنانے کا عزم رکھتے ہیں، جہاں نئی اور اختراعی ایوی ایشن کمپنیاں آ کر ایک مکمل صنعت کا آغاز کریں۔





