
خلیج اردو
دبئی:بزنس بے کے "کیپیٹل گولڈن ٹاور” کی تیسری منزل پر واقع سویٹ 302 کے باہر اب صرف ایک کالا کوڑا دان اور ایک بالٹی میں رکھا موپ بچا ہے — جہاں کچھ ہی دن پہلے تک ’گلف فرسٹ کمرشل بروکرز‘ کی مصروف آفس سرگرمیاں جاری تھیں۔
گزشتہ ماہ تک، تقریباً 40 ملازمین یہاں موجود تھے جو مسلسل فون کالز کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری (فوریکس) کی پیشکش کرتے تھے۔ آج وہ دفاتر خالی پڑے ہیں: دیواروں سے فون کی تاریں اکھاڑ دی گئی ہیں، فرش پر گرد ہے، اور سرمایہ کاروں کے کروڑوں درہم لاپتہ ہو چکے ہیں۔
متاثرین میں شامل بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے محمد اور فیاض پوئل نے مشترکہ طور پر 75 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ فیاض نے دفتر کے دروازے کے باہر کھڑے ہو کر بتایا:
“ہم یہاں جواب لینے آئے تھے، مگر کچھ نہیں ملا۔ صرف خالی کمرے ہیں۔ ہم نے جتنے نمبرز تھے سب پر کال کی، مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ جیسے وہ کبھی یہاں تھے ہی نہیں۔”
تحقیقات کے بعد اس اسکیم کے خدوخال سامنے آ رہے ہیں۔ ایک اور بھارتی سرمایہ کار سنجیو نے بتایا کہ کس طرح ’گلف فرسٹ کمرشل بروکرز‘ نے سرمایہ کاروں کو ’سیگما-ون کیپیٹل‘ نامی ایک غیر رجسٹرڈ آن لائن پلیٹ فارم کی جانب راغب کیا۔
"انہوں نے ہمیں محفوظ منافع کی ضمانت دی تھی۔ انہی یقین دہانیوں پر میں نے اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی لگا دی،” سنجیو نے کہا۔
محمد، جنہوں نے 50 ہزار ڈالر گنوائے، نے بتایا کہ عملہ ’گلف فرسٹ‘ اور ’سیگما-ون‘ کو ایک ہی کمپنی ظاہر کرتا تھا اور ان کے نام آپس میں استعمال کرتا تھا۔
ان دونوں اداروں کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی جا چکی ہے۔
تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ’سیگما-ون کیپیٹل‘ متحدہ عرب امارات کی مالیاتی اتھارٹیز (DFSA یا SCA) سے رجسٹرڈ نہیں ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کا اندراج سینٹ لوشیا میں ہے اور اس کا دفتر بر دبئی کے مسلّا ٹاور میں واقع ہے، مگر وہاں ایسا کوئی دفتر موجود نہیں۔ حتیٰ کہ کمپنی کی کسی سرگرمی کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ملا۔
ایک اور سرمایہ کار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“کاش میں پہلے ان کی رجسٹریشن چیک کرتا۔ اب ہمارے پاس صرف خالی دفتر اور خالی بینک اکاؤنٹس رہ گئے ہیں۔”
پہلے جیسا دھوکہ
یہ اسکیم ماضی کے کئی فراڈز سے مشابہ ہے۔ رواں سال مارچ میں خلیج ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ ‘DuttFx’ اور ‘EVM Prime’ جیسے مشکوک اداروں نے بھی اسی طرح کے فون کالز کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیا اور کروڑوں روپے ہتھیا لیے۔
متاثرین کو پہلے چھوٹے منافع دکھا کر اعتماد دلایا جاتا تھا۔ ایک بھارتی شہری، جس نے سیگما-ون کیپیٹل میں 230,000 ڈالر (تقریباً 8.4 لاکھ درہم) لگائے، نے بتایا کہ اسے کنڑا زبان بولنے والا ایک "ریلیشن شپ مینیجر” دیا گیا، جس نے اس سے قریبی تعلق قائم کیا۔
"شروع میں منافع نظر آیا اور کچھ رقم نکل بھی آئی۔ مگر پھر وہ رقم بڑھانے پر زور دینے لگا۔ جب میں مزید سرمایہ کاری کرنے لگا تو پلیٹ فارم میں عجیب چیزیں دکھنے لگیں، جیسے فرضی اثاثے ‘wheat.spot’۔”
اس نے مزید بتایا:
"میں نے کریڈٹ کارڈز، بینک ٹرانسفرز، یہاں تک کہ بیوی کی جمع پونجی بھی لگا دی۔ ہر دفعہ یہی کہا گیا کہ یہ آخری رقم ہوگی۔”
ایک اور متاثرہ شخص روزانہ قرض خواہوں کی کالز سن رہا ہے جبکہ ایک اور متاثرہ شخص بینک کی جانب سے مقدمات کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ اس نے دو کریڈٹ کارڈز کی حد تک استعمال کی۔
کیپیٹل گولڈن ٹاور کے سیکیورٹی گارڈ نے بتایا:
“انہوں نے جلدی جلدی چابیاں واپس کیں، سامان سمیٹا اور فوراً نکل گئے۔ اب روز لوگ آتے ہیں اور ان کے بارے میں پوچھتے ہیں۔”
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایک منظم طریقے سے چلایا گیا۔ ابتدائی فون کالز سے اعتماد حاصل کیا گیا، پھر تعلق بنانے والے "ریلیشن شپ مینیجرز” کو ہدف سونپ دیے گئے۔
خلیج ٹائمز نے جب سیگما-ون کیپیٹل اور گلف فرسٹ کمرشل بروکرز سے رابطے کی کوشش کی تو زیادہ تر فون کالز کا کوئی جواب نہ ملا۔ صرف ایک علاقائی مینیجر نے کال اٹھائی، مگر "اخبار” کا ذکر سنتے ہی فون کاٹ دیا۔







