
خلیج اردو
شارجہ، 22 مئی
عمان کے ظفار ریجن میں ہر سال جون کے آخر سے ستمبر تک جاری رہنے والے "خریف سیزن” کے دوران علاقہ سبزے سے ڈھک جاتا ہے اور قدرتی مناظر اپنی خوبصورتی کی انتہا کو پہنچتے ہیں۔ جولائی کو خریف کا بہترین مہینہ قرار دیا گیا ہے جب بارشیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں اور صلالہ کا ہر گوشہ فطری حسن سے جگمگا اٹھتا ہے۔
ظفار کے میئر ڈاکٹر احمد الغسانی کے مطابق، "خریف سیزن سرکاری طور پر 21 جون سے شروع ہو کر 20 ستمبر تک جاری رہتا ہے، تاہم بعض اوقات بارشیں جلد یا دیر سے آتی ہیں۔ مگر عموماً جون کے آخر تک سبزہ نمودار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔”
ہر سال ہزاروں اماراتی شہری اور مقیم غیر ملکی خریف کے دوران عمان کا سفر کرتے ہیں تاکہ موسم کی ٹھنڈک، بارش اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔
سفر اور ویزا کی تفصیلات
یو اے ای سے عمان کا سفر متعدد زمینی راستوں سے ممکن ہے جن میں حتّا، العین اور دیگر شمالی امارات شامل ہیں۔ اماراتی شہریوں کو ویزا کی ضرورت نہیں، جبکہ غیر ملکی رہائشی یا تو سرحد پر ویزا حاصل کر سکتے ہیں یا بہتر یہ ہے کہ آن لائن ای ویزا پہلے سے حاصل کر لیں۔
ڈاکٹر احمد نے کہا، "آن لائن ویزا درخواست دینا زیادہ محفوظ اور وقت بچانے والا طریقہ ہے۔”
رائل عمان پولیس کے مطابق، سیاحتی ویزا کی فیس 5 عمانی ریال (تقریباً 48 درہم) ہے۔
سیاحوں کی تعداد اور رجحانات
2023 میں خریف سیزن کے دوران ایک ملین افراد عمان آئے، جن میں سب سے زیادہ تعداد عمانی شہریوں اور مقامی رہائشیوں کی تھی۔
مجموعی سیاحوں میں 70 فیصد عمانی، 20 فیصد جی سی سی ممالک سے اور 10 فیصد دیگر ممالک سے تھے۔
جی سی سی ممالک میں سب سے زیادہ سیاح متحدہ عرب امارات سے آئے، اس کے بعد سعودی عرب کا نمبر تھا۔ ڈاکٹر احمد کے مطابق، "ہم آنے والے تین برسوں میں سیاحوں کی تعداد میں ہر سال کم از کم 10 فیصد اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”
ہوٹلوں کی گنجائش اور ترقیاتی منصوبے
ظفار میونسپلٹی وزارت سیاحت کے ساتھ مل کر ہوٹلوں کی گنجائش میں اضافہ کر رہی ہے۔ کچھ نئے ہوٹل اس سال خریف میں کھلیں گے جبکہ کچھ موسم سرما میں تیار ہوں گے۔ گزشتہ سال کے دوران کچھ ہوٹل 100 فیصد بکنگ پر پہنچ گئے تھے۔
خریف میں دیکھنے اور کرنے کے قابل سرگرمیاں
خریف کے دوران صلالہ میں کئی رنگارنگ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جن میں کارنیوال، ڈرون شوز، روشنیوں کے مظاہرے، ناچتے فوارے، تھیٹر شوز اور دیگر تقریبات شامل ہیں۔
اہم مقامات میں رملۃ جدیلہ (دنیا کا سب سے بڑا ریت کا ٹیلہ)، آبشاریں، قدرتی مناظر اور ثقافتی مقامات شامل ہیں۔
ڈاکٹر احمد نے صلالہ میں موجود ایک منفرد چینی یادگار کا بھی ذکر کیا جو چین سے باہر واحد مقام ہے جو مایہ ناز ملاح زینگ ہی کی یاد میں تعمیر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، سفید ریت والے ساحل اور قدیم قلعے بھی سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔






