
خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے مقامی بینکوں کے خوردہ صارفین کیلئے کم از کم بیلنس کی 5000 درہم کی شرط کو فی الحال معطل کر دیا ہے، جس کا مقصد اس فیصلے کے لیبر مارکیٹ پر ممکنہ اثرات کا مزید جائزہ لینا ہے۔
ذرائع کے مطابق، منگل کے روز مرکزی بینک نے ملک بھر کے تمام لائسنس یافتہ مالیاتی اداروں (LFIs) کو ایک نوٹس جاری کیا، جس میں 1 جون 2025 سے نافذ ہونے والی کم از کم بیلنس کی حد 3000 درہم سے بڑھا کر 5000 درہم کرنے کا فیصلہ مؤخر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے مرکزی بینک کی جانب سے مالیاتی اداروں کو اس بارے میں ابتدائی نوٹس جاری کیا گیا تھا کہ 1 جون سے نئے بیلنس کی شرط لاگو کی جائے گی، اور مطلوبہ بیلنس برقرار نہ رکھنے کی صورت میں صارفین پر ماہانہ 25 درہم فیس عائد کی جائے گی، سوائے ان صارفین کے جو بینک سے کریڈٹ کارڈ یا پرسنل فنانسنگ رکھتے ہوں۔
تاہم اب مرکزی بینک نے تمام مقامی بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کو فوری طور پر معطل کیا جائے، اور اگلے احکامات تک اس پر عمل نہ کیا جائے۔ یہ فیصلہ خاص طور پر کم آمدنی والے ملازمین کے لیے ایک ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اکثر کم از کم بیلنس برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
مرکزی بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2025 کے اختتام پر بینکوں میں جمع شدہ رقوم 2.840 ٹریلین درہم تھیں، جو فروری کے آخر تک بڑھ کر 2.874 ٹریلین درہم ہو گئیں، یعنی 1.2 فیصد اضافہ۔ اس اضافے میں رہائشی کھاتوں میں 0.8 فیصد اور غیر رہائشی کھاتوں میں 5.1 فیصد اضافہ شامل ہے۔
رہائشی کھاتوں میں بھی مختلف شعبوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جن میں حکومت سے متعلق اداروں کے ذخائر میں 3.8 فیصد، نجی شعبے کے ذخائر میں 1.4 فیصد اور نان بینکنگ مالیاتی اداروں کے ذخائر میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا۔






