متحدہ عرب امارات

یو اے ای: پاکستانی حکومت کا ڈیپورٹیز پر پابندی کا فیصلہ، اصل مسافروں کے لیے ویزا اور سفر میں آسانی

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی شہریوں نے اپنی حکومت کے اس حالیہ فیصلے کو سراہا ہے جس کے تحت بیرون ملک سے ڈیپورٹ ہونے والے پاکستانیوں کے پاسپورٹ منسوخ کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک کی ساکھ کو بہتر بنانے اور اصلی سیاحوں و کاروباری افراد کے لیے ویزا کے عمل کو آسان بنانے میں مدد دے گا۔

یہ پالیسی ان تمام پاکستانیوں پر لاگو ہو گی جو یو اے ای، خلیجی ممالک، یورپ، امریکہ اور دیگر خطوں سے ڈیپورٹ ہو کر واپس وطن پہنچے ہیں۔ حکومت کے مطابق ایسے افراد کا پاسپورٹ فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے گا، ان پر پانچ سال کے لیے سفری پابندی عائد ہو گی اور ان کے خلاف ایف آئی آر کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان افراد کے خلاف ایک مضبوط پیغام ہے جو غیر قانونی طور پر یا دھوکے سے بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں، اور اس سے ان لوگوں کی راہ ہموار ہو گی جو سیاحت یا کاروبار کے لیے جائز ویزے کے ساتھ یو اے ای آنا چاہتے ہیں۔

محمد فیروز خان، جو ان دنوں یو اے ای میں اپنے بیٹے سے ملاقات اور ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے موجود ہیں، نے حکومت کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ان ایجنٹس کی سرگرمیوں پر بھی قدغن لگے گی جو شہریوں کو جعلی ویزوں پر بیرون ملک بھیج کر ان سے بھاری رقوم بٹورتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’ایسے افراد پر عارضی سفری پابندی بالکل درست فیصلہ ہے، کیونکہ اس سے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو تقویت ملے گی اور پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ بھی محفوظ رہے گی۔‘‘

فیروز خان نے زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ صرف ان افراد کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے جو مکمل طور پر ویزے اور سفری شرائط پر پورا اترتے ہوں۔

ادھر، پاکستانی مشنز نے حالیہ دنوں میں یو اے ای میں خبردار کیا کہ شہری بیرون ملک ملازمتوں سے متعلق آن لائن اشتہارات پر انتہائی احتیاط برتیں، کیونکہ کئی افراد جعلی بھرتی اسکیموں کا شکار ہو چکے ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی پاکستانی خاتون، ریحانہ پروین، جو حال ہی میں یو اے ای پہنچی ہیں، نے بتایا کہ ان کے ٹریول ایجنٹ نے انہیں بتایا تھا کہ ویزے کی منظوری کے امکانات صرف 50 فیصد ہیں، جس پر انہوں نے یو اے ای میں ہی درخواست دینے کا فیصلہ کیا۔ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دو دن قبل ان کا ویزا منظور ہو گیا۔

ریحانہ نے اس فیصلے کو ’’یقینی طور پر خوش آئند‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دیگر پاکستانیوں کو، جو سیاحت یا کاروبار کی غرض سے یو اے ای آنا چاہتے ہیں، ویزے کے حصول میں سہولت ہو گی۔

دبئی کے ایک ٹریول ایجنٹ، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے کہا کہ بعض اوقات ایئرلائنز کو بھی مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق، ’’جب ٹریول ایجنسیاں کسی مسافر کی طرف سے ویزا کے لیے درخواست دیتی ہیں تو ان کے لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہوتا ہے کہ وہ شخص مقررہ وقت پر ملک چھوڑ دے۔ اسی مقصد کے لیے حفاظتی رقم کے طور پر کچھ رقم جمع کرائی جاتی ہے۔‘‘

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button