
خلیج اردو
بیروت، لبنان – شارجہ کی انسان دوست تنظیم "دی بگ ہارٹ فاؤنڈیشن” (TBHF) کے "سلام بیروت” مہم کے تحت 2020 کے تباہ کن بیروت بندرگاہ دھماکے میں تباہ ہونے والے لبنان کے 147 سالہ قدیم اسپتال کا ایمرجنسی اور ٹراما (ERT) مرکز مکمل طور پر دوبارہ تعمیر کر لیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ 87 لاکھ درہم کی مالی معاونت سے مکمل کیا گیا، جس کے تحت سینٹ جارج یونیورسٹی میڈیکل سینٹر (SGHUMC) میں جدید آلات سے آراستہ ایمرجنسی یونٹ کے ساتھ ایک نیا بچوں کا شعبہ بھی قائم کیا گیا ہے، جو سالانہ 40 ہزار بچوں کا علاج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق، "نیا تعمیر شدہ یونٹ اب وسعت یافتہ صلاحیت، جدید ٹراما کیئر سہولیات، اور اعلیٰ درجے کے طبی آلات کے ساتھ مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے۔ یہ بیروت کی صحت عامہ کی بحالی میں ایک اہم پیش رفت ہے۔”
TBHF کی ڈائریکٹر، علیا المساعیبی نے کہا: "یہ اقدام شارجہ کی قیادت، شیخ ڈاکٹر سلطان القاسمی، اور چیئرپرسن شیخہ جواہر القاسمی کی جانب سے لبنان کے عوام کے لیے محبت اور یکجہتی کا پیغام ہے۔ یہ منصوبہ اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ انسانیت کی خدمت باوقار، پائیدار اور با مقصد ہونی چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا، "بیروت بندرگاہ دھماکہ صرف ایک انفرااسٹرکچر کا نقصان نہیں تھا بلکہ ایک انسانی المیہ تھا، اور ہمارا جواب اس بات پر مرکوز تھا کہ متاثرین کو صرف سہولیات ہی نہیں بلکہ خودداری اور استحکام واپس دلایا جائے۔”
بیروت کی بندرگاہ پر 4 اگست 2020 کو ہونے والے دھماکے میں 150 سے زائد افراد جاں بحق اور تقریباً 3 لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے۔ یہ سانحہ امونیم نائٹریٹ کے ایک بڑے ذخیرے کے دھماکے سے پیش آیا تھا۔
اسپتال کے ایمرجنسی اور ٹراما مرکز کے سربراہ ڈاکٹر جوزف وہبے کے مطابق، "یہ اسپتال ان اداروں میں شامل تھا جو دھماکے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور اپنے 1878 کے قیام کے بعد پہلی بار مکمل بند ہو گیا۔”
انہوں نے بتایا کہ، "ہماری طبی و انتظامی ٹیموں کی محنت سے دو ہفتے کے اندر ایک عارضی ایمرجنسی یونٹ کے ذریعے خدمات بحال کی گئیں۔ آج، ٹراما یونٹ کی بحالی اور توسیع نہ صرف اسپتال کے لیے فخر کا لمحہ ہے بلکہ بیروت کے عوام کے لیے امید کی بحالی کی علامت بھی ہے۔





