متحدہ عرب امارات

دبئی میں جائیداد کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر، آئندہ 15 فیصد تک کمی کا امکان: فچ رپورٹ

خلیج اردو
دبئی – عالمی درجہ بندی کی ایجنسی "فچ” کی تازہ رپورٹ کے مطابق، دبئی میں جائیداد کی موجودہ قیمتیں اپنے موجودہ چکر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں اور اب ان میں اصلاح کی توقع کی جا رہی ہے، جو زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 سے 2027 کے درمیان دبئی میں نئی جائیدادوں کی فراہمی میں سالانہ 16 فیصد اضافہ ہوگا، جبکہ آبادی میں اضافے کی شرح صرف 5 فیصد کے قریب رہے گی۔ اس سپلائی اور ڈیمانڈ میں فرق سے قیمتوں پر دباؤ آئے گا۔

فچ کے تجزیہ کاروں نے اندازہ لگایا ہے کہ موجودہ سائیکل میں قیمتیں یا تو اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں یا 2025 میں اس حد کو چھو لیں گی۔ "اگر منصوبہ جات کی تکمیل میں مزید تاخیر ہوئی تو یہ کمی محدود رہنے کا امکان ہے،” رپورٹ میں کہا گیا۔

قیمتوں میں متوقع کمی کی وجوہات
تجزیہ کے مطابق، پراپرٹی کی پیشگی فروخت کے ماڈلز میں بھی نرمی کی جائے گی۔ اس وقت سرمایہ کاروں سے تعمیر کے دوران 70 فیصد ادائیگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جو آئندہ 50 فیصد تک محدود کیا جا سکتا ہے، تاکہ سرمایہ کاروں کے لیے جائیداد خریدنا آسان ہو۔

دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ نے گزشتہ چار سالوں میں زبردست ترقی دیکھی ہے، جس کی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں، امیر افراد اور پیشہ ور افراد کی متحدہ عرب امارات میں آمد ہے۔ 2022 سے 2025 کی پہلی سہ ماہی تک رہائشی جائیدادوں کی قیمتوں میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مضبوط مقامات پر کم اثر
رپورٹ کے مطابق دبئی کے پرائم لوکیشنز میں موجود اثاثے متوقع کمی سے کم متاثر ہوں گے، کیونکہ ان علاقوں میں سرمایہ کار طویل مدت تک اپنی جائیدادیں رکھتے ہیں اور وہ قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کو بہتر انداز میں برداشت کر سکتے ہیں۔

ریکارڈ سپلائی کا تخمینہ
2023 اور 2024 میں ریکارڈ منصوبوں کے بعد، 2025 سے 2027 کے دوران تقریباً 2.5 لاکھ یونٹس مارکیٹ میں آنے کی توقع ہے۔ صرف 2026 میں 1.2 لاکھ یونٹس کی ہینڈ اوور متوقع ہے، جبکہ 2024 میں 30 ہزار اور 2025 میں 90 ہزار یونٹس دیے جائیں گے۔

بینکوں کی سرمایہ کاری میں کمی
رپورٹ کے مطابق، زیادہ تر منصوبے آف پلان فروخت ہو رہے ہیں اور ان کی فنڈنگ ایسکرو اکاؤنٹس کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات کے بینکوں نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں براہ راست قرضے کم کر دیے ہیں۔ 2022 سے 2024 کے درمیان بینکوں کی کارپوریٹ ریئل اسٹیٹ فنانسنگ میں 66 ارب درہم کی کمی آئی ہے۔

2024 کے آخر میں رئیل اسٹیٹ کا بینکوں کے کل قرضوں میں حصہ 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جس میں 14 فیصد کارپوریٹ فنانسنگ اور 8 فیصد مارگیج قرضے شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button