
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں پریمیم نجی اسکولوں کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اب یہ سالانہ 2 لاکھ درہم سے زائد فیسوں کے ساتھ خلیج تعاون کونسل (GCC) کے دیگر ممالک سے آگے نکل چکا ہے۔ یہ رجحان بڑھتی ہوئی خوشحالی، مستحکم معیشت، تعلیمی ترقی کی حکومتی پالیسیوں اور مستحکم ریگولیٹری ماحول کا نتیجہ ہے۔
الپن کیپیٹل کی تازہ رپورٹ کے مطابق، آئندہ پانچ برسوں میں جی سی سی خطے میں طلبہ کی تعداد میں 15 لاکھ کا اضافہ متوقع ہے، جس سے 2029 تک کل تعداد 1 کروڑ 55 لاکھ ہو جائے گی۔ صرف K-12 شعبہ 2.1 فیصد سالانہ ترقی کی شرح سے 1 کروڑ 29 لاکھ طلبہ تک پہنچے گا۔
تعلیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں اعلیٰ معیار کی تعلیم، جدید سہولیات اور بین الاقوامی نصاب کی فراہمی عالمی معیار کی تعلیم کی تلاش میں آنے والے خاندانوں کے لیے پرکشش ہے۔ خاص طور پر برطانیہ سے تعلق رکھنے والے خوشحال خاندان بڑی تعداد میں دبئی منتقل ہو رہے ہیں اور اپنے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا انتخاب کر رہے ہیں۔
دبئی میں 2025 میں کھلنے والا GEMS School of Research and Innovation اس رجحان کی نمایاں مثال ہے۔ 47,600 مربع میٹر پر محیط کیمپس، 100 ملین ڈالر (367 ملین درہم) کی سرمایہ کاری اور سالانہ فیس 116,000 سے 206,000 درہم کے درمیان مقرر کی گئی ہے۔
GEMS ایجوکیشن کی ایک عہدیدار کے مطابق، اسکول اگست میں اپنی افتتاحی تاریخ پر 400 سے زائد طلبہ کے ساتھ آغاز کرے گا، جو اس کی مقبولیت اور دبئی میں تعلیم پر والدین کے اعتماد کا ثبوت ہے۔
دیگر بڑے تعلیمی ادارے بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ تعلیم گروپ کی جانب سے ہارو برانڈ کے دو نئے اسکول دبئی اور ابوظہبی میں 2026 میں کھلیں گے، جہاں فیسیں 80,000 سے 100,000 درہم کے درمیان ہوں گی۔ ریپٹن اسکول دبئی، جو کہ متحدہ عرب امارات میں پہلا برطانوی برانڈڈ اسکول ہے، پہلے ہی 100,000 درہم سے زائد سالانہ فیس وصول کر رہا ہے۔
کوگنیٹا مڈل ایسٹ کے سی ای او، ڈیوڈ بالڈون کے مطابق، یو اے ای میں برطانوی طرز کے پریمیم اسکولوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ بین الاقوامی کمیونٹی خاص طور پر برطانوی خاندان یہاں اعلیٰ معیار کی تعلیم چاہتے ہیں۔
تاہم رجحان صرف مہنگے ترین اسکولوں تک محدود نہیں۔ ایسے اسکول بھی مقبول ہو رہے ہیں جو معیاری لیکن نسبتاً سستی بین الاقوامی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ تعلیم گروپ کے مطابق، دبئی برٹش اسکول جمیرہ نے اپنے پہلے سال میں ہی ریکارڈ اندراجات حاصل کیں، جب کہ اگست 2025 میں کھلنے والا دبئی برٹش اسکول میرا پہلے ہی 700 سے زائد طلبہ کا اندراج حاصل کر چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب میں بھی برطانوی، امریکی، بھارتی اور IB نصاب والے اسکول موجود ہیں جہاں فیسیں سالانہ 5,000 سے 90,000 ریال کے درمیان ہیں، لیکن پریمیم تعلیم کے میدان میں یو اے ای سب سے آگے ہے۔
دبئی کے دیگر مہنگے نجی اسکولوں میں نارتھ لندن کالجیئٹ اسکول، جمز ورلڈ اکیڈمی، سوئس انٹرنیشنل سائنٹیفک اسکول، کینٹ کالج اور نارڈ اینگلیا انٹرنیشنل اسکول شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نجی اور بین الاقوامی نصاب کی طرف والدین کا رجحان بڑھ رہا ہے، جب کہ دبئی میں 17 مختلف نصابات پر عمل کرنے والے نجی اسکول موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی طلبہ کے بعد اماراتی طلبہ اب دبئی کے نجی اسکولوں میں دوسرا سب سے بڑا گروہ بن چکے ہیں۔
ابتدائی تعلیم میں بھی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر نرسری اور کنڈرگارٹن کے شعبے میں، جہاں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر میں سرکاری و نجی شراکت داری بڑھ رہی ہے۔







