
خلیج اردو
دبئی: عالمی سطح پر ایک تازہ سروے نے ماسٹرز ڈگری کی افادیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں آجرین کا کہنا ہے کہ عملی تجربہ اور نوکری سے متعلق مہارتیں تعلیمی اسناد کے مقابلے میں زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہیں، اور یہ رجحان متحدہ عرب امارات میں بھی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
ریزیوم جینئیس کے زیر اہتمام امریکہ میں کیے گئے سروے کے مطابق، 1,000 ہائرنگ منیجرز میں سے 52 فیصد کا ماننا ہے کہ ماسٹرز ڈگری رکھنے والے افراد، بیچلر اور دو سال کے تجربے والے امیدواروں کے مقابلے میں کوئی نمایاں کارکردگی نہیں دکھاتے۔
متعدد مہارتوں کی طلب میں اضافہ
کینیڈین یونیورسٹی دبئی کے پرووسٹ ڈاکٹر ایڈم فینچ نے کہا کہ پچھلی دہائی میں ماسٹرز کی اہمیت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جو لیبر مارکیٹ، ٹیکنالوجی اور سماجی توقعات کے بدلتے تقاضوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل تعلیمی ادارے مختصر مدت کی مہارتوں، سرٹیفکیٹس اور عملی تربیت پر زور دے رہے ہیں۔
BITS پلانی دبئی کے کیریئر سروسز مینیجر عبدالرزاق کے مطابق، آج کے دور میں آجرین مہارتوں کو رسمی ڈگریوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے 2023 کے لنکڈ اِن رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 75 فیصد ہائرنگ منیجرز اب مہارتوں کو اہمیت دیتے ہیں، جب کہ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق 2025 تک دنیا کی نصف سے زیادہ افرادی قوت کو نئی مہارتیں سیکھنے کی ضرورت ہو گی۔
انسٹی ٹیوٹس کا نیا تعلیمی ماڈل
بی آئی ٹی ایس پلانی جیسے ادارے طلبہ کو عملی تجربہ فراہم کرنے کے لیے "پریکٹس اسکول” پروگرام چلا رہے ہیں، جس میں انٹرن شپس کے ذریعے طلبہ کی پیشہ ورانہ تربیت کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالٹکس، سائبر سیکیورٹی اور پروجیکٹ مینجمنٹ جیسے ہائی ڈیمانڈ شعبوں میں مختصر کورسز بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔
ماسٹرز ڈگری اب محض اعزازی حیثیت نہیں
یونی ہاک کے سی ای او ورن جین نے کہا کہ اب طلبہ ماسٹرز صرف رسمی تقاضا پورا کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے کیریئر کو مارکیٹ کی سمت کے مطابق ڈھالنے یا پروفیشنل نیٹ ورک تک رسائی کے لیے حاصل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر انجینئرنگ کے طالب علم اب ڈیٹا اینالٹکس یا بزنس اسٹریٹیجی میں ماسٹرز کر کے نئی راہیں اختیار کر رہے ہیں۔
بھرتی کرنے والے بھی تجربے کو ترجیح دے رہے ہیں
مارک ایلس دبئی کے جنرل منیجر اوز اسماعیل نے کہا کہ آج کے دور میں آجرین ایسے افراد کو ترجیح دے رہے ہیں جو فوری طور پر کام میں آ سکیں۔ انہوں نے کہا، "ماسٹرز کسی حد تک دروازے کھول سکتی ہے، لیکن اصل اہمیت امیدوار کی عملی مہارت، ذہنیت اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی صلاحیت کی ہے۔”
جینی ریکروٹمنٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکی ولسن نے بھی کہا کہ بیشتر کمپنیوں کو امیدوار سے نہ صرف ماسٹرز بلکہ بیچلر ڈگری کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، سوائے کچھ مخصوص اسٹارٹ اپس کے، جہاں MBA کی شرط ہو سکتی ہے۔
تنخواہ اور قابلیت میں تضاد باقی
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ بہت سے آجر ماسٹرز ڈگری کو کارکردگی میں بہتری سے نہیں جوڑتے، لیکن وہ اب بھی ایسے امیدواروں کو زیادہ تنخواہ کی پیشکش کرتے ہیں، جو تعلیمی قابلیت اور معاوضے کے درمیان ایک تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔







