
خلیج اردو
العین: العین کی سول، کمرشل اور انتظامی دعووں کی عدالت نے ایک مکان مالک کو کرایہ دار کو 1 لاکھ 25 ہزار درہم ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سنایا گیا جب مالک مکان نے مکمل کرایہ وصول کرنے کے باوجود کرایہ کی رہائشی پراپرٹی حوالے نہیں کی۔
مقامی میڈیا "الامارات الیوم” کے مطابق، مدعی نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا کہ اس نے سالانہ 1 لاکھ 25 ہزار درہم کی بنیاد پر ایک مکان کرائے پر لینے کا معاہدہ کیا تھا۔ رقم مالک مکان کی ہدایت پر اس کے کم عمر بیٹے کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود پراپرٹی حوالے نہیں کی گئی اور بعد ازاں مالک مکان نے معاہدے کی موجودگی سے ہی انکار کر دیا۔
مدعی نے عدالت سے گزارش کی کہ وہ مدعا علیہ سے فیصلہ کن قسم لے۔ عدالت نے قسم کچھ یوں تیار کی: "میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں مدعی کا 1 لاکھ 25 ہزار درہم کا مقروض نہیں ہوں، اور اللہ میرے قول پر گواہ ہے۔” لیکن مدعا علیہ سماعت میں حاضر نہیں ہوا، جسے عدالت نے قسم اٹھانے سے انکار تصور کیا۔
کیس کی دوبارہ سماعت کے دوران دونوں فریقین کو طلب کیا گیا۔ مدعی نے وضاحت کی کہ یہ محض ایک وعدہ تھا، باقاعدہ کرایہ داری کا معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ مدعا علیہ نے اصرار کیا کہ کوئی کرایہ داری کا تعلق نہیں اور رقم اس کے اکاؤنٹ میں نہیں آئی، تاہم اس نے رقم اقساط میں واپس کرنے کی درخواست بھی کی۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مدعا علیہ نے نہ تو دعوے کو واضح طور پر جھٹلایا، نہ ہی مدعی کے پیش کردہ ثبوتوں کو رد کیا، بلکہ رقم کی واپسی کی پیشکش کو عدالت نے قرض کے اعتراف کے طور پر دیکھا۔ مزید برآں، عدالت میں قسم نہ اٹھانے کو بھی مدعی کے حق میں سمجھا گیا۔
عدالت نے اپنے حتمی فیصلے میں مدعا علیہ کو، بطور فرد اور اپنے کم عمر بیٹے کے قانونی سرپرست کے طور پر، مدعی کو 1 لاکھ 25 ہزار درہم ادا کرنے کا حکم دیا، ساتھ ہی تمام عدالتی اخراجات اور قانونی فیسیں بھی ادا کرنے کی ہدایت جاری کی۔







