
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں مقیم کچھ رہائشیوں کو عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران جارجیا میں داخلے سے روک دیا گیا، جب کہ حکومت کی جانب سے 17 اپریل 2025 کو ویزا قوانین میں سختی کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ ان پابندیوں کا عملی نفاذ دیکھا گیا۔
نئے ضوابط کے تحت جارجیا نے کچھ مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے داخلے کی شرائط سخت کر دی ہیں، جن میں پاکستان، بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک شامل ہیں، چاہے ان کے پاس خلیجی ممالک کے رہائشی ویزے ہی کیوں نہ ہوں۔
متحدہ عرب امارات میں مقیم 31 سالہ پاکستانی شہری محمد، جو سینئر پروڈکٹ مینیجر ہیں، اس تبدیلی سے بے خبر تھے۔ وہ عید کی چھٹیوں کے دوران ایک دوست کے ہمراہ ابوظہبی سے وز ایئر کے ذریعے کوتائیسی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے، جہاں انہیں داخلے سے روک دیا گیا۔
"ہمارے پاس تمام ضروری دستاویزات موجود تھیں، بشمول یو اے ای ریزیڈنسی پروف، ہوٹل کی بکنگز، ریٹرن ٹکٹ اور ٹریول انشورنس۔ کچھ مسافروں کو بورڈنگ سے پہلے ہی روک دیا گیا، لیکن ہمیں پرواز کی اجازت دے دی گئی تھی،” محمد نے بتایا۔
تاہم، ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد انہیں ایک پولیس افسر نے روک کر شناخت طلب کی۔ بعدازاں ان کے پاسپورٹ لے لیے گئے، ان کی تصاویر لی گئیں، اور بغیر کسی وضاحت کے "انٹری سے انکار” کی دستاویزات تھما دی گئیں۔
محمد نے بتایا: "ہمیں 12 گھنٹوں سے زائد ایک قید خانے جیسے کمرے میں رکھا گیا، جہاں نہ کھانے کو کچھ تھا، نہ صاف پانی اور نہ ہی مناسب صفائی۔ ہمیں مجرموں کی طرح برتاؤ کا سامنا کرنا پڑا۔”
انہوں نے پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جارجیا کا سفر سوچ سمجھ کر کریں۔ "ہم نے فلائٹس، ہوٹل، انشورنس اور کرایہ کی گاڑی پر پیسہ ضائع کیا، مگر جو ذہنی اذیت اور نفسیاتی دباؤ ہم نے برداشت کیا، اس کا کوئی ازالہ نہیں۔”
واضح رہے کہ جارجیا نے 5 جون 2015 کے حکومتی فیصلے میں ترمیم کے ذریعے ویزا سے متعلق ان تبدیلیوں کا اطلاق کیا، جس کے تحت وہ ممالک جن کے ویزا یا رہائشی اجازت نامے کے حاملین کو بغیر ویزا داخلے کی اجازت دی گئی تھی، اب ان پر سخت پابندیاں لاگو کر دی گئی ہیں۔
حکومتی وضاحت کے مطابق یہ اقدامات غیر قانونی ہجرت کو روکنے اور سرحدی کنٹرول کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، برخلاف اس تاثر کے جو بعض میڈیا اور سوشل میڈیا پر پیش کیا گیا کہ قوانین میں نرمی کی گئی ہے۔







