
خلیج اردو
دبئی: دنیا میں سب سے تیز، سب سے بڑی اور سب سے مالا مال تعمیرات کے لیے مشہور متحدہ عرب امارات نے اب ایک اور ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے — بلیو لائن میٹرو نیٹ ورک کے تحت تعمیر ہونے والا دنیا کا سب سے اونچا میٹرو اسٹیشن۔
دبئی کے حکمراں، جو طویل عرصے سے میٹرو منصوبے کے روحِ رواں سمجھے جاتے ہیں، نے اس نئی لائن کے پہلے اسٹیشن — ‘ایمار پراپرٹیز’ — کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے، جو 9 ستمبر 2029 کو مکمل ہوگا۔ یہ تاریخ بھی روایتی طور پر دبئی کی علامتی عدد ‘نو’ سے جڑی ہوئی ہے۔
اس اسٹیشن کا ڈیزائن بلاشبہ مستقبل کی جھلک پیش کرتا ہے۔ یہ ایک ‘پورٹل نما’ ڈھانچے پر مبنی ہے، جو لفظی طور پر "مستقبل کے دروازے” کی صورت میں سامنے آتا ہے — دبئی کے ترقیاتی وژن کا عکاس۔
برج خلیفہ کے معماروں کا نیا شاہکار
پیر کے روز انکشاف ہوا کہ اس اسٹیشن کو عالمی شہرت یافتہ امریکی آرکیٹیکچرل فرم Skidmore, Owings & Merrill (SOM) نے ڈیزائن کیا ہے، جنہوں نے دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ، نیویارک کا اولمپک ٹاور اور شکاگو کا سیئرز ٹاور بھی ڈیزائن کیا تھا۔
74 میٹر (242 فٹ) بلند یہ اسٹیشن تین منزلوں پر مشتمل ہوگا اور شاندار فن تعمیر کی متعدد تہیں پیش کرے گا۔ بلند و بالا دیواریں آسمان سے ہمکلام دکھائی دیتی ہیں، جبکہ گرم قدرتی رنگ اور ساخت اس کی بنیادوں کو زمین سے جوڑے رکھتی ہیں۔
چھتوں میں شیشے کی پینلز نصب ہوں گی، جن کے ذریعے سورج کی روشنی پلیٹ فارمز اور لابی میں داخل ہوگی، جس سے قدرتی روشنی کا حسین امتزاج پیدا ہوگا۔
پلیٹ فارم یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ دیواروں سے ابھر رہا ہو، جبکہ ایک پیدل پل مسافروں کو میٹرو لائن سے جوڑے گا۔ قدرتی پتھر اور دھاتوں کا امتزاج روایتی اور جدید دبئی کے سنگم کو ظاہر کرتا ہے۔ اسٹیشن کی دیواروں پر Jura limestone bronze metal استعمال ہوگا جبکہ فرش پر گرینائٹ کے ٹائلز ہوں گے۔
نیا انداز، نیا وژن
بلیو لائن کے ڈیزائن کا پہلا ماڈل اکتوبر 2024 میں سامنے آیا تھا، جس میں ایک بڑا بیضوی گنبد ٹریکس کے اوپر دکھایا گیا تھا — جو ریڈ اور گرین لائنز کے مکمل بند اسٹیشنز سے مختلف تھا۔ مگر اب نیا ڈیزائن عمودی دیواروں کے ذریعے اسٹیشن کو گہرائی دیتا ہے، جبکہ روایتی میٹرو ٹرمینل آرچ کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ اسٹیشن ایک چھوٹی کمیونٹی کا منظر بھی پیش کرے گا — جہاں الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ پوائنٹس، اترنے کے لیے مخصوص جگہیں، اور سبزہ زاروں سے گھری پارکنگ شامل ہوں گی۔
یہ اسٹیشن 2040 تک یومیہ 1 لاکھ 60 ہزار مسافروں کی گنجائش رکھے گا، اور نہ صرف انہیں ان کی منزل تک پہنچائے گا بلکہ مستقبل سے ایک قدم قریب بھی لے جائے گا۔







