متحدہ عرب امارات

شارجہ کا نیک دل موٹر سائیکل سوار دادا محمد داؤد 67 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

خلیج اردو
شارجہ: شارجہ کے معروف پاکستانی نژاد مکین اور "مساجد سے محبت” کے سفر پر نکلنے والے موٹر سائیکل سوار محمد داؤد 67 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کا انتقال ہفتہ 14 جون کو ہوا، جب کہ نماز جنازہ اتوار 15 جون کو عصر کے بعد جامع صحابہ مسجد میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں شارجہ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

محمد داؤد، جنہیں لوگ محبت سے ’’بائیکر دادا‘‘ کہتے تھے، پچھلے پانچ برسوں سے ہر صبح فجر کی نماز کے لیے متحدہ عرب امارات کی مختلف مساجد کا سفر موٹر سائیکل پر طے کرتے تھے۔ وہ شارجہ کے علاقے الحیرا میں رہائش پذیر تھے اور ایک امریکی کمپنی میں سیلز مینیجر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

انہوں نے اس روحانی سفر کو اپنی زندگی کی "پکار” قرار دیا تھا۔ صبح ساڑھے تین بجے نکلنے والے محمد داؤد نے دھند، طویل فاصلوں اور کام کی مصروفیات کے باوجود اس سفر کو ترک نہ کیا۔ وہ شمالی امارات کی تقریباً 100 مساجد میں فجر کی نماز ادا کر چکے تھے، اور اپنی اس مہم کو اپنے یوٹیوب چینل In Love with Masajids پر بھی دستاویزی انداز میں پیش کرتے رہے۔

محمد داؤد کے بیٹے سمیر محمد داؤد نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ "انہیں کچھ عرصہ قبل دل کا دورہ پڑا تھا لیکن وہ صحتیاب ہو گئے تھے، تاہم حالیہ دنوں میں سینے کے انفیکشن اور پیچیدگیوں کے باعث طبیعت بگڑ گئی۔ انہیں راس الخیمہ کے شیخ خلیفہ اسپیشلٹی ہسپتال کے آئی سی یو میں داخل کیا گیا، جہاں انہوں نے پرامن انداز میں جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔”

محمد داؤد کی نیکی صرف مساجد کے سفر تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ شارجہ میں اپنی رہائش گاہ کے باہر روزانہ شام کو پانی، کھجوریں، چاکلیٹس اور کووِڈ کے دنوں میں ماسک اور سینیٹائزر لیے کھڑے ہوتے اور گزرنے والوں، جاگنگ کرنے والوں اور ساحل سمندر کے قریب آنے والوں کو مفت تقسیم کرتے۔ رواں سال کے آغاز میں انہوں نے اپنے دونوں پوتوں کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی تھی، جس میں وہی ٹرالی وہ دونوں بچے آگے بڑھا رہے تھے، گویا داؤد کی نیکی کا سفر آگے منتقل ہو رہا ہو۔

ان کی وفات پر اہلِ علاقہ، دوست احباب، موٹر سائیکل سواروں اور ان لوگوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا جنہوں نے انہیں صرف دور سے دیکھا لیکن ان کی سخاوت سے متاثر ہوئے۔

شارجہ کے رئیل اسٹیٹ بروکر سنیل سیکویرا نے کہا: "یہ افسوسناک خبر ہے، وہ ایک شاندار انسان تھے، ایسے لوگ روز روز نہیں ملتے۔”

پڑوسی فاروق ابراہیم احمد نے داؤد کو ان کی سخاوت، خوش اخلاقی اور مثبت اثرات کے لیے یاد کیا، جب کہ دبئی کے بائیکر افروز نے کہا: "ہم میں سے اکثر thrill کے لیے موٹر سائیکل چلاتے تھے، لیکن داؤد بھائی مقصد کے لیے سوار ہوتے تھے۔”

محمد داؤد اپنے پیچھے اہلیہ، دو بیٹے حمزہ اور سمیر، ایک بیٹی اور چار پوتے چھوڑ گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button