
خلیج اردو
دبئی – بالی ووڈ اداکارہ کرشمہ کپور کے سابق شوہر اور معروف بھارتی صنعتکار سنجے کپور کی اچانک موت نے دنیا بھر میں طبی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جب کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق ان کی موت کی ممکنہ وجہ شہد کی مکھی کا ڈنک ہو سکتی ہے۔
53 سالہ سنجے کپور جمعرات کو انگلینڈ میں ایک پولو میچ کے دوران انتقال کر گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، کھیل کے دوران وہ مبینہ طور پر ایک شہد کی مکھی نگل گئے تھے، جس کے نتیجے میں دل کا دورہ پڑا۔
زندگی کے لیے خطرناک پیچیدگیاں
خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے دبئی کے ماہرین صحت نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پرائم میڈیکل سینٹر برجمان برانچ کی ماہر امراض قلب ڈاکٹر سُما مالنی وکٹر کے مطابق، "اگر کوئی شخص غلطی سے شہد کی مکھی نگل لے تو یہ شاذ و نادر ہی سہی، لیکن بعض اوقات جان لیوا پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جن میں انفی لی ایکٹک شاک اور دل کا دورہ بھی شامل ہیں۔ اگر مکھی گلے، زبان یا سانس کی نالی میں ڈنک مارے تو اچانک سوجن اور سانس کی بندش بھی ہو سکتی ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ شہد کی مکھی کا زہر دل کی شریانوں پر براہ راست اثر انداز ہو کر دل کے دورے کا سبب بن سکتا ہے۔
کونِس سنڈروم: نایاب مگر خطرناک
مدیور اسپتال ابوظہبی کے فیملی میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر سعد کامل دلی نے کہا، "اگرچہ عام آبادی میں کیڑوں کے کاٹنے سے انفی لی ایکسس کی شرح کم ہے، لیکن جن لوگوں کو الرجی ہو، ان میں یہ شرح 5 سے 10 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ تاہم، سانس کی نالی میں ڈنک مارا جائے تو یہ ایک ہنگامی طبی صورتحال بن جاتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات ایسی الرجی "کونِس سنڈروم” کو متحرک کر سکتی ہے، جس میں الرجک ردِعمل دل کی شریانوں میں اینٹھن پیدا کر دیتا ہے، جو کہ دل کے دورے کا سبب بن سکتا ہے، چاہے مریض کو پہلے سے دل کی کوئی بیماری نہ ہو۔
ہنگامی ردعمل ناگزیر
انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال کے ماہر امراض قلب ڈاکٹر ہشام طیّل نے زور دیا کہ ایسی صورتحال میں فوری طبی امداد نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر ڈنک زبان، گلے یا منہ کے اندر ہو تو خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، چاہے کسی کو پہلے سے الرجی نہ بھی ہو۔ شدید ذہنی دباؤ، آکسیجن کی کمی اور ہانپنا دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی یا دل کے دورے کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جنہیں دل کی کسی بیماری کا علم ہی نہ ہو۔”
ڈاکٹروں نے تجویز کیا ہے کہ جن افراد کو کسی قسم کی الرجی کا سامنا ہو، انہیں فوری طور پر الرجی کے ماہر کے پاس جانا چاہیے، جہاں ضروری ٹیسٹ، وینم امیونوتھراپی اور ایمرجنسی دوا جیسے ایپی پین کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔







