متحدہ عرب امارات

شارجہ: پی ایچ ڈی کی طالبہ نادیہ ایمن کی المناک موت، والدہ نے بیٹی کی ڈگری آنسوؤں کے ساتھ وصول کی

خلیج اردو
شارجہ:خوشی کا لمحہ اندوہناک المیے میں بدل گیا جب شارجہ یونیورسٹی کی ہونہار طالبہ، انجینئر نادیہ ایمن ناصف، پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے سے چند روز قبل ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئیں۔

نادیہ کی جگہ ان کی والدہ، انجینئر فرح عبدالرحیم الحسنی، نے گریجویشن کی تقریب میں بیٹی کی ڈگری وصول کی۔ ہال میں موجود شرکاء نے کھڑے ہو کر تعظیم دی، تالیاں بجیں، آنکھیں اشکبار ہوئیں اور "اللہ ان پر رحم فرمائے” کے الفاظ کے ساتھ ان کا نام پکارا گیا۔

نادیہ نے اپنی والدہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری خود دے گی۔ اگرچہ وہ خود یہ لمحہ نہ دیکھ سکی، لیکن اس کے اہل خانہ نے اس کی آخری خواہش پوری کی۔

والدہ نے بتایا کہ وہ ہال میں تنہا داخل ہوئیں، وہی ہال جہاں نادیہ کے ساتھ ان کی بیچلرز سے پی ایچ ڈی تک کی یادیں وابستہ تھیں۔ انہوں نے کہا، "وہ میرے ساتھ تھی، میں ہر قدم پر اس کی موجودگی محسوس کر رہی تھی۔”

والد ایمن ولید ناصف نے اس لمحے کو ناقابلِ برداشت درد اور ناقابلِ بیان فخر سے تعبیر کیا۔ انہوں نے خود اسٹیج پر جانے کی ہمت نہ کی اور اپنی اہلیہ کو خاندان کی نمائندگی کرنے دیا۔

نادیہ کی بہن، صحافی شہد ناصف نے بتایا کہ نادیہ خاندان کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔ وہی ان کی پہلی استاد بھی تھیں جنہوں نے ابتدائی جماعتوں میں انہیں پڑھایا۔

ان کے بھائی، انجینئر محمد ناصف نے کہا کہ نادیہ اس تقریب کو عید کی طرح مناتی تھیں۔ "جب اس کا نام پکارا گیا، اور ہال دعاؤں اور تالیوں سے گونج اٹھا، وہ لمحہ میرے دل پر ہمیشہ نقش رہے گا۔”

نادیہ ایک تین سالہ بیٹے کی ماں تھیں، جو اب اپنی ماں کی آواز کی گونج اور اس کی محنت کی میراث کے سائے میں بڑا ہوگا۔

نادیہ نے شارجہ یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ میں بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں، اور ہر مرحلے پر نمایاں کارکردگی دکھائی۔ ان کا تحقیقی کام فائبر سے مضبوط شدہ کنکریٹ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے عمارتوں کی مانیٹرنگ پر مبنی تھا۔

انہوں نے محض 12 سال میں عالمی سطح کے 12 تحقیقی مقالے شائع کیے، جن میں سے 8 سرفہرست تحقیقی جرائد (Q1) میں شامل ہوئے۔ ان کا تحقیقی اثر 1.74 تھا، جو عالمی اوسط سے 74 فیصد زیادہ تھا۔

نادیہ کو حال ہی میں یونیورسٹی آف دبئی میں پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کے ایک منصوبے میں شمولیت کی دعوت ملی تھی، جہاں وہ اے آئی پر مبنی سسٹمز پر کام کرنا چاہتی تھیں۔ مگر زندگی نے انہیں اس خواب کی تعبیر دیکھنے کا موقع نہ دیا۔

نادیہ کا انتقال نہ صرف ان کے خاندان بلکہ تعلیمی اور انجینئرنگ حلقوں کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، مگر ان کی محنت اور جذبہ آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ بن چکا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button