
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کے وزیر معیشت عبداللہ بن طوق المری نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی ممالک کا مشترکہ سیاحتی ویزہ (GCC Tourist Visa) باضابطہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے اور جلد نافذ کیا جائے گا۔
خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
"واحد خلیجی سیاحتی ویزہ منظور ہو چکا ہے، اب اس پر عملدرآمد کی تیاری ہے جو جلد متوقع ہے۔ یہ اب وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے پاس ہے جو اس پر کام کر رہے ہیں۔”
اس مشترکہ ویزہ کو "GCC گرینڈ ٹورز ویزہ” بھی کہا جاتا ہے، جو شینجن ویزہ کی طرز پر غیر ملکی سیاحوں کو تمام چھ خلیجی ممالک – متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، قطر، عمان اور کویت – کے سفر کی اجازت دے گا۔
سیاحت سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ویزہ خطے کی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور مجموعی جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ ہو گا۔
یہ ویزہ "بلیژر” یعنی بزنس اور لیژر کو یکجا کر کے سفر کے رجحان کو بھی فروغ دے گا، کیونکہ سیاح اب کاروباری دورے کے ساتھ ساتھ آس پاس کے ممالک کی سیر کو بھی ترجیح دیں گے۔
خلیجی ممالک کی سیاحت سے متعلق ادارے کے مطابق، صرف 2023 میں خطے نے 68.1 ملین سیاحوں کو خوش آمدید کہا اور 110.4 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی، جو کہ 2019 کے مقابلے میں 42.8 فیصد کا اضافہ ہے۔
ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورزم کونسل (WTTC) کے مطابق، 2024 میں متحدہ عرب امارات میں سیاحت کے شعبے میں ملازمین کی تعداد 8 لاکھ 33 ہزار ہو چکی ہے، اور 2030 تک یہ تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔
دبئی، جو خلیج کا سیاحتی مرکز ہے، نے 2025 کے پہلے چار مہینوں میں 71 لاکھ 50 ہزار سیاحوں کو خوش آمدید کہا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 7 فیصد اضافہ ہے۔







