
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان مصروف ترین فضائی راہداری کو حالیہ فضائی حدود کی بندش نے بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں، اور سیکڑوں مسافر مشکلات سے دوچار ہو گئے۔
ہر سال 10 ملین سے زائد مسافروں کی نقل و حرکت والی یہ فضائی راہداری 2023 میں 19 ملین مسافروں کی میزبانی کر چکی ہے، اور دنیا کی مصروف ترین بین الاقوامی فضائی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے۔
حالیہ دنوں میں متعدد مسافر راستے میں پھنس گئے جبکہ کئی کو بیرون ملک سفر کے دوران اپنی پروازیں منسوخ ہونے پر متبادل انتظامات کرنا پڑے۔ ایئر انڈیا اور اس کی ذیلی کمپنی ایئر انڈیا ایکسپریس کی پروازیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔ پیر کو دبئی سے لکھنؤ، منگلور، اور کوچی جانے والی چھ پروازیں یا تو تاخیر کا شکار ہوئیں یا منسوخ کر دی گئیں۔
ایک متاثرہ مسافر، سابقہ اماراتی رہائشی سلیم، جو اپنی اہلیہ کے ہمراہ بچوں سے ملاقات کے لیے دبئی آئے تھے، نے بتایا کہ ان کی واپسی کی پرواز پیر کی شام کو تھی لیکن دوپہر میں ہی انہیں منسوخی کا نوٹس موصول ہو گیا۔ پیغام میں لکھا تھا:
"ہمیں افسوس ہے کہ آپ کی پرواز فضائی حدود کی بندش کے باعث منسوخ کر دی گئی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس سے آپ کے سفری منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ براہ کرم سروس کی بحالی کے لیے ایئر انڈیا سپورٹ ٹیم سے رابطہ کریں۔”
مزید مشکلات اس وقت بڑھ گئیں جب ایئر انڈیا کو گزشتہ جمعرات ایک سانحے کا سامنا کرنا پڑا، جب احمد آباد سے لندن جانے والی پرواز AI 171 پرواز کے فوراً بعد ایک میڈیکل کالج کی عمارت سے ٹکرا گئی۔ یہ حادثہ گزشتہ دہائی کی سب سے بدترین فضائی آفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد بھارتی سول ایوی ایشن ریگولیٹر نے ایئر انڈیا کے 33 ڈریم لائنر طیاروں کی ہنگامی جانچ کا حکم دیا، جس سے مزید پروازیں متاثر ہوئیں۔
سلیم نے بتایا، "میرے کچھ اہم معاملات ہیں جن کے لیے مجھے جلد از جلد اپنے آبائی شہر واپس جانا ہے۔ اب میں نے منگل کے دن فجیرہ سے ایک مختلف ایئرلائن کے ذریعے کنّور واپسی کی نئی بکنگ کر لی ہے۔”
دوسری جانب دبئی کی رہائشی سمرین، جنہیں پیر کی شام کوزیکوڈ سے شارجہ آنا تھا، ان کی پرواز بھی منسوخ ہو گئی۔ انہوں نے بتایا، "میں نے فوری طور پر فلائی دبئی پر دوبارہ بکنگ کی کوشش کی مگر تمام نشستیں فروخت ہو چکی تھیں، اس لیے میں نے منگل کے لیے ایک اور کم قیمت ایئرلائن پر نشست حاصل کی ہے۔ امید ہے یہ پرواز بغیر کسی رکاوٹ کے روانہ ہو جائے گی۔”
دیگر ایئرلائنز بھی متاثر
صرف ایئر انڈیا ہی نہیں بلکہ اسپائس جیٹ سمیت دیگر بھارتی ایئرلائنز بھی متاثر ہوئیں۔ اسپائس جیٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا:
"ہم دبئی ایئر ٹریفک کنٹرول پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کی وجہ ایران کی فضائی حدود کی بندش اور مسقط کی فضائی حدود کی عدم دستیابی ہے۔ تمام پروازوں کی روانگی اور آمد متاثر ہو سکتی ہے۔”
دبئی ایئرپورٹ (DXB) نے خلیج ٹائمز کو دیے گئے بیان میں مسافروں کے صبر کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ وہ تمام ایئرلائنز اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور جہاں ضرورت ہو وہاں ہوٹل میں قیام جیسی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
سفر کے ماہرین کے مطابق، اگرچہ یو اے ای – انڈیا کا فضائی راستہ براہ راست بند فضائی حدود سے نہیں گزرتا، مگر اب دیگر طیارے متبادل راستوں، مثلاً یو اے ای اور عمان کی فضائی حدود استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث وہاں شدید رش اور تاخیر ہو رہی ہے۔
اسی دوران ایک اور مسافر این ایف، جو یوگنڈا سے کوزیکوڈ جا رہی تھیں، شارجہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پھنس گئیں کیونکہ ان کی اندرونِ ملک پرواز تاخیر کا شکار ہو گئی۔ انہوں نے بتایا، "فضائی حدود کی بندش کے باعث پرواز کو طویل راستہ اختیار کرنا پڑا، جس سے میری کنکشن پرواز چھوٹ گئی۔ خوش قسمتی سے مجھے کھانے کے واؤچر دیے گئے اور آرام کے لیے ایک پوڈ فراہم کیا گیا۔ بعد میں میں ایک اور پرواز کے ذریعے گھر پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔







