متحدہ عرب امارات

ایران اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں جی سی سی ایمرجنسی سینٹر فعال

خلیج اردو
ریاض: خلیج تعاون کونسل (GCC) نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر جی سی سی ایمرجنسی مینجمنٹ سینٹر کو فعال کر دیا ہے۔ جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی کے مطابق یہ اقدام ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے ایک پیشگی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے، بالخصوص جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے اثرات کے پیش نظر۔

البدیوی نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ماحولیاتی آلودگی، بنیادی ڈھانچے کو درپیش خطرات، اور اقتصادی نظام جیسے تجارتی و توانائی کی فراہمی کے متاثر ہونے کے امکانات سے نمٹنے کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ، خلیج کی اہم آبی گزرگاہوں کی سلامتی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا بھی اس اقدام کا اہم جزو ہے۔

فی الحال کسی فوری خطرے کے شواہد موجود نہیں، اور تکنیکی اشاریے محفوظ حد کے اندر ہیں۔ تاہم، جی سی سی رکن ممالک نے مکمل چوکسی اختیار کرتے ہوئے مکمل الرٹ کی حالت برقرار رکھی ہے تاکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔

سیکریٹری جنرل کے مطابق، ایمرجنسی سینٹر کی فعالیت کے ذریعے ماحولیاتی اور شعاعی سطح پر تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں، اور رکن ممالک کے ساتھ مربوط ابتدائی وارننگ سسٹمز کے ذریعے مسلسل نگرانی جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تکنیکی رپورٹس اور ڈیٹا باقاعدگی سے جاری کیا جا رہا ہے اور پہلا باضابطہ بیان میڈیا کو جاری بھی کیا جا چکا ہے۔

تمام خلیجی ممالک نے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملے اور اس کے جواب میں ایران کی کارروائی کے بعد سفارتی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
البدیوی نے کہا کہ جی سی سی کے قیام کی بنیاد باہمی یکجہتی پر ہے اور اس کا مقصد ایسے تنازعات کو روکنا ہے جو نہ صرف خلیج بلکہ عالمی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ تمام فریقین تحمل سے کام لیں اور کسی بھی فوجی کارروائی سے گریز کریں تاکہ صورتحال کسی ایسے وسیع تر تنازع کی طرف نہ بڑھ جائے جس کے نتائج نہ صرف ناقابلِ پیش گوئی بلکہ ناقابلِ قابو بھی ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button