متحدہ عرب امارات

شور شرابے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی: غیر قانونی تبدیلی پر 10 ہزار درہم جرمانہ

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں گرمیوں کی چھٹیوں کے آغاز کے ساتھ ہی رہائشی علاقوں میں نوجوان ڈرائیورز کی جانب سے شور و غل اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کی شکایات بڑھنے لگی ہیں، جس پر پولیس نے سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

شارجہ، عجمان اور فجیرہ کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ کار ہارن کے بے جا استعمال، بلند آواز میں موسیقی چلانے اور گاڑیوں میں غیر قانونی تبدیلیوں کی شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ رویے نہ صرف عوامی سکون کو متاثر کرتے ہیں بلکہ معاشرتی نظم و ضبط کے بھی خلاف ہیں۔

شارجہ پولیس کے ٹریفک اینڈ پیٹرولز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کرنل محمد الائی النقبی نے بتایا کہ رہائشی علاقوں میں گشت بڑھا دیا گیا ہے اور کسی بھی قسم کے غیر مہذب رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عجمان پولیس کے لیفٹیننٹ کرنل راشد بن ہندی نے کہا کہ ایسی گاڑیوں کے خلاف کارروائی جاری ہے جو شور پیدا کرتی ہیں یا ہارن کا غلط استعمال کرتی ہیں۔

فجیرہ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ سب سے زیادہ شکایات گاڑیوں کے شور، چیختے ہوئے ٹائروں اور غیر قانونی تبدیلیوں سے متعلق موصول ہوئی ہیں، جو معاشرتی اقدار کے منافی ہیں۔

قانون کیا کہتا ہے؟
متحدہ عرب امارات کے فیڈرل ٹریفک قانون کے مطابق، ہارن یا میوزک سسٹم کے ذریعے دوسروں کو تنگ کرنے پر 400 درہم جرمانہ اور 4 بلیک پوائنٹس عائد کیے جاتے ہیں۔ اگر شور گاڑی میں کی گئی غیر قانونی تبدیلی کی وجہ سے ہو تو جرمانہ 2,000 درہم اور 12 بلیک پوائنٹس ہو جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں، بغیر اجازت گاڑی میں تبدیلی کرنے پر گاڑی ضبط کی جا سکتی ہے، اور رہائی کے لیے مالک کو 10,000 درہم ادا کرنا ہوں گے۔ اگر یہ رقم تین ماہ میں ادا نہ کی جائے تو گاڑی نیلام کر دی جائے گی۔

وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال صرف شارجہ میں شور شرابے کی 504 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، عجمان میں 117 اور فجیرہ میں 8۔

پولیس حکام نے نوجوان ڈرائیورز سے اپیل کی ہے کہ وہ خاص طور پر اسکولوں، ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں کے قریب احتیاط سے ڈرائیونگ کریں، اور غیر ضروری ہارن یا بلند آواز میں موسیقی سے گریز کریں، ورنہ سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button