
خلیج اردو
دبئی – متحدہ عرب امارات میں نیورولوجی کے ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دماغی شریان کی کمزوری یعنی برین اینیورزم کی بروقت اسکریننگ کروائیں، خاص طور پر وہ افراد جن کے خاندان میں دماغی یا نیورولوجیکل بیماریوں کی تاریخ موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری اکثر خاموشی سے حملہ کرتی ہے، اور جب تک علامات واضح ہوں، تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
یہ وارننگ اس وقت سامنے آئی جب معروف بالی وڈ اداکار سلمان خان نے ایک ٹی وی شو میں انکشاف کیا کہ وہ برین اینیورزم، ٹریجمنل نیورالجیا اور اے وی مالفارمیشن جیسے پیچیدہ دماغی امراض سے نبردآزما ہیں۔
نیورولوجسٹس کے مطابق برین اینیورزم ایک ایسا عارضہ ہے جس میں دماغ کی کسی شریان کی دیوار کمزور ہو جاتی ہے، جس سے وہ شریان پھول جاتی ہے اور کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے۔
ماہرین کا انتباہ: خاموش قاتل کو پہچانیے
سعودی جرمن اسپتال شارجہ سے وابستہ ماہرِ نیورولوجی ڈاکٹر محمد احمد کے مطابق:
"برین اینیورزم دماغی شریان کی ایک خطرناک خرابی ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ کر جان لیوا ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر وہ ‘سرکل آف ولیس’ کے پچھلے حصے میں ہو۔ اگر کسی فرد کے خاندان میں ایسے دو یا اس سے زائد قریبی رشتہ داروں کو یہ عارضہ ہو چکا ہو، یا اگر کوئی جینیاتی اثر موجود ہو تو بروقت اسکریننگ لازمی ہے۔”
برین اینیورزم کی عالمی و مقامی صورت حال
مدکیئر رائل، دبئی کے نیورولوجسٹ ڈاکٹر انوپ نارندرن کے مطابق:
"عالمی سطح پر ہر ایک لاکھ میں 10 سے 15 افراد میں برین اینیورزم پایا جاتا ہے، اور متحدہ عرب امارات میں بھی اس کی شرح تقریباً 11 سے 13 فی لاکھ ہے۔ تاہم اعداد و شمار خطرے کی شدت کو مکمل طور پر بیان نہیں کرتے، کیونکہ کئی افراد اس مرض کے ساتھ لاعلمی میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔”
علامات: ’زندگی کی بدترین درد‘ سے لے کر معمولی سر درد تک
ایسٹر اسپتال منخول کے ڈاکٹر پونّو پلئی کے مطابق:
"اگر اینیورزم پھٹ نہ جائے تو ممکنہ علامات میں مستقل سر درد، نظر کی خرابی، آنکھوں میں درد، چہرے کا سن ہونا، آنکھوں کا جھکاؤ یا کانوں میں سائیں سائیں کی آواز شامل ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر اینیورزم پھٹ جائے تو مریض کو اچانک شدید ترین سر درد، متلی، بے ہوشی یا دورے پڑ سکتے ہیں۔ یہ ایک ہنگامی نیورولوجیکل کیفیت ہوتی ہے۔”
کون لوگ زیادہ خطرے میں ہیں؟
ماہرین کے مطابق درج ذیل افراد کو فوری اسکریننگ کروانی چاہیے:
-
وہ افراد جن کی عمر 40 سال سے زیادہ ہو
-
ہائی بلڈ پریشر یا تمباکو نوشی کی تاریخ رکھتے ہوں
-
خاندان میں اچانک موت یا نیورولوجیکل امراض کی مثالیں موجود ہوں
-
مستقل یا شدید سر درد، چہرے پر جھکاؤ یا دوہری نظر کی شکایت ہو
زندگی بچانے والی احتیاطی تدابیر
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ UAE میں رہنے والے افراد، خاص طور پر وہ جو خطرے میں ہیں، ریگولر امیجنگ اور نیورولوجیکل معائنہ کروائیں۔ بروقت اسکریننگ، طرزِ زندگی میں تبدیلی، اور نیند و تناؤ پر قابو اس مہلک بیماری سے تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔







