
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں کچھ جوڑے ایک غیر روایتی مگر دلچسپ حل اپنا رہے ہیں — الگ الگ سونا۔ بظاہر عجیب لگنے والے اس فیصلے کو "سلیپ ڈائیورس” کہا جاتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ جسمانی آرام اور جذباتی سکون کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر کچھ مشہور جوڑوں نے اپنے سونے کے معمولات مداحوں سے شیئر کیے، جس پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کسی تعلق کے ٹوٹنے کی علامت نہیں، بلکہ نیند کی مشکلات کا عملی حل ہو سکتا ہے۔
ایسٹر کلینک میں ماہر نفسیات ڈاکٹر ندھی کمار نے بتایا کہ "اونچی خراٹے لینا، بے آرام ٹانگوں کی بیماری، بے خوابی اور نیند کے مختلف اوقات اکثر وجوہات بنتی ہیں جو جوڑوں کو الگ سونے پر مجبور کرتی ہیں۔ یہ مسائل وقت کے ساتھ چڑچڑا پن اور بدگمانی کو جنم دیتے ہیں۔”
انہوں نے کہا، "آج کے دور میں کئی جوڑے اس فیصلے کو اپنی ذہنی پختگی کا مظہر سمجھتے ہیں — کیونکہ یہ نیند اور رشتے دونوں کی بہتری کے لیے سوچ سمجھ کر لیا جاتا ہے۔ البتہ ضروری ہے کہ یہ فیصلہ باہمی رضامندی اور کھلے دل سے کیا جائے۔ اگر اس کے پیچھے جذباتی دوری یا گریز پوشیدہ ہو تو یہ رشتے میں بڑی دراڑ کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔”
انٹرنل میڈیسن کی ماہر ڈاکٹر پرنسی جون پورتھن کا کہنا تھا کہ الگ سونے والے جوڑے بھی قربت اور جذباتی تعلق برقرار رکھ سکتے ہیں۔ "جوڑے سونے سے پہلے وقت گزار سکتے ہیں، ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت یا تھوڑی دیر ایک ساتھ لیٹ کر دن کا اختتام کر سکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جن جوڑوں کو دیرینہ نیند کے مسائل جیسے بے خوابی، خراٹے، بے آرام ٹانگیں یا بار بار پیشاب آنا جیسے مسائل درپیش ہوں، ان کے لیے الگ سونا طبّی طور پر تجویز کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مسائل دوسرے فریق کی نیند پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
ڈاکٹر پرنسی کے مطابق "اصل اہمیت باہمی احترام اور کھلے مکالمے کی ہے۔ بہتر نیند، بہتر مزاج، توانائی اور رشتے کی مضبوطی کا باعث بنتی ہے، لہٰذا یہ مسئلہ نیند یا تعلقات میں سے کسی ایک کو چننے کا نہیں، بلکہ دونوں کو بہتر کرنے کا ہے۔





