متحدہ عرب امارات

شارجہ میں بھارتی انجینئر کی پراسرار موت: خاندان نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

خلیج اردو
شارجہ، 8 جولائی 2025 — بھارت کے شہر لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ انجینئر انوراگ تیواری کی متحدہ عرب امارات میں ایک تجارتی بحری جہاز "جانا 505” پر پراسرار موت کے بعد ان کے خاندان نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

انوراگ 29 جون کو دبئی سے شارجہ روانہ ہوئے تھے تاکہ اپنی نئی نوکری پر تعینات ہو سکیں۔ اسی دن شام 9 بج کر 38 منٹ پر ان کے اہل خانہ کو اطلاع دی گئی کہ وہ جہاز کے انجن روم میں مردہ پائے گئے۔

بھارت میں موجود ان کے والد انیل تیواری نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ انہوں نے بیٹے کو صبح 4 بجے (بھارت کے وقت کے مطابق) "بہترین خواہشات” کا پیغام بھیجا تھا، جس کا فوری جواب ملا۔ مگر جب صبح 7 بجے کال کی گئی تو کوئی جواب نہ ملا۔ دن بھر رابطہ نہ ہو سکا، اور رات کو موت کی خبر ملی۔

ممبئی کی ایک پرائیویٹ ایجنسی "اوشکا شپنگ پرائیویٹ لمیٹڈ” کے مطابق انوراگ انجن روم میں بے ہوش پائے گئے، جہاں CPR کے بعد انہیں قریبی بندرگاہ لے جایا گیا، مگر ECG پر کوئی حرکت قلب ظاہر نہ ہوئی۔ ابتدائی رپورٹ میں موت کی وجہ "ہیٹ اسٹروک کے باعث اعضا کی ناکامی” بتائی گئی ہے۔

تاہم خاندان اس وضاحت سے مطمئن نہیں اور انہوں نے واقعے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انیل تیواری نے سوال اٹھایا کہ انجن روم جیسے خطرناک مقام پر ان کے بیٹے کو اکیلے کیوں بھیجا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ انوراگ نے پہلے ہی بتایا تھا کہ وہاں تنہا نہیں جایا جاتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایس او پیز کے مطابق انجن روم کو پہلے وینٹیلیٹ کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ وہاں زہریلی گیسوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ انہوں نے CPR کے وقت اور طبی مدد سے متعلق بھی سوالات اٹھائے کہ اگر انوراگ سانس لے رہے تھے تو CPR کیوں دیا گیا؟

مزید یہ کہ کمپنی کی طرف سے پہلے کہا گیا تھا کہ انوراگ "ڈیک” پر بے ہوش ہوئے، مگر بعد میں بتایا گیا کہ وہ "انجن روم” میں پائے گئے — جو انیل کے بقول ایک سنگین تضاد ہے۔

انوراگ 19 جون کو دبئی پہنچے تھے اور سنگاپور کی کمپنی "سینرجی شپ عربیہ” کے ساتھ کام کر رہے تھے، جو "جانا 505” کو کمیشن کرنے کے عمل کی نگرانی کر رہی تھی۔

انوراگ کے والد کے مطابق ان کا بیٹا ایک باصلاحیت اور محنتی نوجوان تھا، جس نے حال ہی میں گاڑی خریدی تھی اور برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم کے منصوبے بنا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہماری زندگی اب صرف دکھ، خاموشی اور سوالات کا مجموعہ ہے۔”

انوراگ کی لاش 5 جولائی کو لکھنؤ پہنچی اور اسی شام آخری رسومات ادا کی گئیں۔

بھارتی قونصل خانے نے کہا ہے کہ وہ خاندان سے مسلسل رابطے میں رہا اور میت کی وطن واپسی میں ہر ممکن مدد فراہم کی گئی۔

خاندان نے یو اے ای حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زہریلی گیسوں کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے انوراگ کے خون کے نمونوں پر ٹاکسیالوجی رپورٹ سمیت مکمل، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائیں تاکہ سچ سامنے آ سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button