متحدہ عرب امارات

دبئی جانے والی ایئر انڈیا ایکسپریس کی پرواز میں تاخیر، مسافر کئی گھنٹے لکھنؤ ایئرپورٹ پر پھنسے رہے

خلیج اردو
لکھنؤ: ایئر انڈیا ایکسپریس کی دبئی جانے والی پرواز IX-193 کی روانگی میں آٹھ گھنٹے سے زائد تاخیر کے باعث مسافروں کو بدترین پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، متعدد مسافر فرش پر لیٹنے یا سامان پر بیٹھنے پر مجبور ہو گئے۔

پرواز کو صبح 8 بجکر 45 منٹ (بھارتی وقت) پر روانہ ہونا تھا، تاہم یہ شام 5 بجے کے بعد روانہ ہوئی، جس کی تصدیق فلائٹ ٹریکر ڈیٹا سے بھی ہوتی ہے۔ دبئی میں اس کی 7:20 شام کے قریب لینڈنگ متوقع تھی۔

مسافروں کا شکوہ: "کوئی مدد کے لیے موجود نہیں”

ایک مسافر امرت سنگھ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
"ایئر انڈیا ایکسپریس کا کوئی بھی عملہ یہاں موجود نہیں ہے،” ویڈیو میں مسافر فرش پر پڑے، تھکے ماندے نظر آ رہے تھے۔

تاخیر کی وجہ: دبئی سے آنے والی پرواز کی 16 گھنٹے تاخیر

لکھنؤ ایئرپورٹ کے ذرائع نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ یہ تاخیر دراصل دبئی سے آنے والی پرواز IX-194 کے 16 گھنٹے تاخیر کا نتیجہ تھی۔ اس طیارے کو منگل کی رات ایک تکنیکی مشتبہ مسئلے کی وجہ سے روک دیا گیا تھا، تاہم مکمل جانچ کے بعد کوئی خرابی نہ پائی گئی، مگر اس دوران فلائٹ شیڈول متاثر ہو گیا۔

ایک اور مسافر محمد اعظم شیخ نے بھی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے کہا:
"ہمیں بورڈنگ کے بعد پائلٹ نے بتایا کہ ایک اور تکنیکی مسئلہ سامنے آ گیا ہے، ہم گھنٹوں سے رن وے پر انتظار کر رہے ہیں۔”

ایئر لائن کی معذرت

ایئر انڈیا ایکسپریس نے اس سوشل میڈیا شکایت پر جواب دیتے ہوئے معذرت کی اور تاخیر کو "آپریشنل رکاوٹوں” کا نتیجہ قرار دیا۔

مسلسل شکایات، ناقص انتظامات

یہ پہلا موقع نہیں جب ایئر انڈیا ایکسپریس کو دبئی-لکھنؤ سیکٹر پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ گزشتہ ماہ بھی تین دن مسلسل پروازیں IX-193 اور IX-194 منسوخ کی گئیں، جس سے متعدد مسافر پھنس گئے تھے۔
متاثرہ افراد کو یا تو ری فنڈ یا بعد کی پروازوں پر ری بکنگ کی پیشکش کی گئی تھی، جو کہ وقت کی کمی والے مسافروں کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔

ایک مسافر نے خلیج ٹائمز کو بتایا:
"ری فنڈ کا کیا فائدہ جب میں ہوٹلز کے پیسے دے چکا ہوں اور اپائنٹمنٹس طے ہیں؟”

اسی ہفتے ایئرلائن نے دہلی، ممبئی، ابوظہبی اور شارجہ سمیت دیگر روٹس پر بھی 13 سے زائد پروازیں منسوخ کی تھیں، جس پر متعدد ایئرپورٹس پر ناقص مواصلات اور مسافروں کو تعاون نہ دینے کی شکایات سامنے آئیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button