متحدہ عرب امارات

یہ صرف آف روڈنگ نہیں، ایک مشن ہے‘، خدمت خلق سے سرشار دبئی کا جوڑا جو مفت میں لوگوں کو ریت سے نکالتا ہے

خلیج اردو
دبئی – دبئی میں مقیم ایک منفرد جوڑے نے سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت یا تفریحی بلاگز کے بجائے اپنی زندگی کو دوسروں کی مدد کے لیے وقف کر دیا ہے۔ لبنانی شہری احمد ہسکول اور ان کی ازبک نژاد اہلیہ نورا، اپنے رضاکارانہ ادارے BlueRex Offroad Rescue کے ذریعے ان گاڑیوں کو بچاتے ہیں جو ریگستان، ساحلوں یا دشوار گزار علاقوں میں پھنس جاتی ہیں — اور یہ تمام خدمات وہ مکمل طور پر مفت فراہم کرتے ہیں۔

احمد، جو 2012 میں دبئی آئے اور ایک لگژری فُٹ ویئر برانڈ میں کام کرتے ہیں، اور نورا، جو اکاؤنٹنٹ ہیں، ہفتے کے اختتام پر آرام کرنے کے بجائے ریسکیو مشن کی تیاری کرتے ہیں۔ احمد کہتے ہیں: ’’ہم جمعے کی شام کو کام کے بعد کھانے کا سامان گاڑی میں رکھتے ہیں، کارگو پینٹ پہنتے ہیں اور ریت میں پھنسے افراد کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔‘‘

ان کی گاڑی ایک طاقتور RAM ٹرک ہے، جسے انہوں نے 2015 میں خریدا اور مزید 1 لاکھ درہم کی لاگت سے ریسکیو مشنز کے لیے مکمل طور پر تیار کیا۔ اس میں جدید ترین وائرلیس ونچ، GPS، واکی ٹاکیز، سرچ لائٹس، اور دیگر ریسکیو آلات شامل ہیں۔ احمد کا کہنا ہے: ’’ہم نے ٹرک، گاڑیاں، یہاں تک کہ ریت میں دھنسے ہوئے کوڑا اٹھانے والے ٹرک کو بھی نکالا ہے۔‘‘

پچھلے دس برسوں میں 2,500 سے زائد ریسکیو مشنز مکمل کر چکے ہیں۔ صرف نئے سال کی رات پر انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ 35 سے زائد گاڑیاں نکالیں۔ ان کے ساتھ رضاکار عبد الرحمان اور ایہام بھی مختلف علاقوں میں نگرانی کرتے ہیں۔

ایک مشن کے دوران جب ’خلیج ٹائمز‘ ان کے ساتھ تھی، ایک معمر شخص اپنی بیوی کے ساتھ گاڑی میں ریت میں پھنس گیا۔ متعدد کوششوں کے بعد احمد اور عبد الرحمان نے اسے باہر نکالا — اور جب اس شخص نے پوچھا کہ کتنا خرچ آیا، تو احمد نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’یہی تو ہمارا کام ہے۔‘‘

جوڑے کا جذبہ صرف ریسکیو تک محدود نہیں۔ نورا کہتی ہیں: ’’ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بے بسی محسوس کرے۔ اس لیے ہم اپنی ویڈیوز آن لائن پوسٹ کرتے ہیں تاکہ جو بھی پریشان ہو، ہم تک پہنچ سکے۔‘‘

یہ جوڑا نہ صرف ایندھن پر ماہانہ ہزار درہم خرچ کرتا ہے بلکہ کھانے، مرمت اور دیگر اخراجات بھی خود برداشت کرتا ہے۔ ان کی چھوٹی بیٹی بھی کبھی کبھار ان کے ساتھ جاتی ہے، اور اپنے والدین سے انسانیت اور خدمت کا سبق سیکھتی ہے۔

نورا کا کہنا ہے: ’’یہ صرف آف روڈنگ نہیں، ایک مشن ہے — اور یہی ہمارا مقصد ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button