
خلیج اردو
ابوظہبی — متحدہ عرب امارات کی عدالتِ عالیہ (کورٹ آف کاسییشن) نے ایک سابق ملازم کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اسے 13 سال تک غیر استعمال شدہ سالانہ رخصت کا 59,290 درہم بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
ملازم نے 2009 سے جون 2022 تک ایک کمپنی میں خدمات انجام دیں، اور اپنی برخاستگی کے بعد مؤقف اختیار کیا کہ اسے اپنے پورے دورِ ملازمت میں سالانہ رخصت کا فائدہ کبھی نہیں ملا، نہ ہی معاوضہ دیا گیا۔ آجر اس دعوے کے خلاف کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکا۔
ابتدائی طور پر مقدمہ نمبر 2024/73 میں ماتحت عدالت نے صرف دو سال کی غیر استعمال شدہ رخصت کا معاوضہ منظور کیا تھا، لیکن کورٹ آف کاسییشن نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مکمل 13 سال کا معاوضہ دینے کا حکم جاری کیا۔
ڈاکٹر حبیب الملہ، جو اس کیس میں وکیل کے طور پر پیش ہوئے، نے کہا کہ یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات میں ملازمت سے متعلق تنازعات کے لیے ایک اہم نظیر قائم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب آجرین کو سالانہ رخصت کی دستاویزات کی باقاعدہ اور درست رکھوالی کرنی ہوگی، کیونکہ غیر ادائیگی کی صورت میں مالی ذمہ داری عائد ہو سکتی ہے۔
قانونی ماہر نووندیپ متھا نے اس فیصلے کو "یواے ای کی لیبر لاء کی تاریخ میں سنگ میل” قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت نے وفاقی قانون نمبر 33 برائے 2021 اور کابینہ کی قرارداد نمبر 1 برائے 2022 کے تحت یہ واضح کیا ہے کہ رخصت کے معاوضے کی ادائیگی آجر کی قانونی ذمہ داری ہے، اور یہ ثابت کرنا بھی آجر ہی کی ذمہ داری ہے کہ ملازم نے رخصت لی یا اس کا معاوضہ وصول کیا۔
عدالت کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ کمپنی کے اندرونی ریکارڈ میں صرف ایک بار رخصت لینے کا اندراج موجود تھا، اور کسی بھی مالی معاوضے کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ اس بنیاد پر عدالت نے ملازم کے حق میں فیصلہ سنایا۔
نووندیپ متھا نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ تمام اداروں کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ اپنے ریکارڈز کی درستگی کو یقینی بنائیں، ورنہ قانونی چارہ جوئی میں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔







