متحدہ عرب امارات

امارات میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ڈائپرز اور بچوں کے فارمولہ دودھ کی ہنگامی فراہمی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں کم آمدنی والے خاندانوں کی فوری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر منافع بخش تنظیم "ہوپ-آمل یو اے ای” نے نئی مہم "5K for Hope Challenge” کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کے تحت پانچ ہزار پیکٹس ڈائپرز، بچوں کے فارمولہ دودھ، اور سینیٹری پیڈز جمع کر کے ضرورت مند خواتین و بچوں تک پہنچائے جا رہے ہیں۔

یہ مہم 5 جولائی سے شروع ہوئی ہے اور جولائی کے اختتام تک یا موسمِ گرما کے دوران جاری رہنے کا امکان ہے۔ اب تک تقریباً 100 پیکجز جمع کیے جا چکے ہیں اور مانگ کے مطابق ان کی ترسیل جاری ہے۔

اس مہم کا آغاز "ہوپ-آمل یو اے ای” کے قیام کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا، جو جولائی 2020 میں کووڈ-19 وبا کے دوران ایک فیس بک پیج سے شروع ہوئی تھی۔ اس وقت صرف ایک دبئی کے خاندان کی مدد کا ارادہ تھا، لیکن آج یہ اقدام 15 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ایک کمیونٹی میں تبدیل ہو چکا ہے، جو اب تک ملک بھر میں 20 ہزار سے زائد خاندانوں کی مدد کر چکا ہے۔

آغاز کی کہانی

تنظیم کی بانی، ایبی کاڈوم، نے بتایا، ’’ہوپ-آمل اس وقت شروع ہوا جب مجھے ایک ایسے خاندان کے بارے میں پیغام موصول ہوا جو بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھا۔ میں نے یہ پیغام دوسروں سے شیئر کیا اور چند ہی منٹوں میں مطلوبہ اشیاء اس خاندان کو پہنچا دی گئیں۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’ہم نے ادارہ بنانے کا سوچا بھی نہیں تھا، یہ سب ایک عمل اور ایک پیغام سے شروع ہوا، اور پھر بڑھتا گیا۔‘‘

موجودہ مہم میں تین بنیادی اشیاء پر توجہ دی گئی ہے: ڈائپرز، فارمولہ دودھ، اور سینیٹری پیڈز۔ یہ وہ اشیاء ہیں جو خاندانوں کی جانب سے سب سے زیادہ درخواست کی جاتی ہیں۔

کاڈوم کے مطابق یہ مہنگی اشیاء ہیں جنہیں دیگر ضروریات کی طرح مؤخر یا متبادل سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم پانچ ہزار ڈائپرز کے پیکٹس جمع کر لیتے ہیں، تو یہ 2,500 خاندانوں کے لیے ایک ماہ کی مکمل فراہمی ہوگی۔ اور پانچ ہزار فارمولہ کے ڈبے 1,250 بچوں کو ایک ماہ کا دودھ فراہم کریں گے۔‘‘

مدد کی فراہمی کا طریقہ کار

مدد کے لیے ہر درخواست ایک مخصوص فارم کے ذریعے دی جاتی ہے، جس میں خاندان کی بنیادی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ہر درخواست کی تصدیق کے بعد ہی مدد فراہم کی جاتی ہے۔

منظور شدہ درخواستوں پر یا تو براہ راست عطیہ کی گئی اشیاء فراہم کی جاتی ہیں یا فوری ضرورت اور دیگر رکاوٹوں کی صورت میں ای-واؤچرز جاری کیے جاتے ہیں۔ ہر ترسیل نجی طور پر کی جاتی ہے تاکہ خاندانوں کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔

ابتدائی چیلنجز جیسے محدود عطیات اور چھوٹے وسائل کے باوجود، تنظیم نے اپنی شفافیت اور مستقل مزاجی سے عوام کا اعتماد حاصل کیا۔ یہ تنظیم نقد عطیات قبول نہیں کرتی بلکہ مکمل طور پر اجناس اور رضاکاروں کی مدد پر انحصار کرتی ہے۔

ہوپ-آمل یو اے ای مقامی اسکولوں، نرسریوں اور کاروباری اداروں کے ساتھ بھی مختلف مہمات کے ذریعے تعاون کرتی ہے، جیسے ’’ڈائپر اینڈ فارمولہ ڈرائیو‘‘، ’’رمضان باکس انیشی ایٹو‘‘، اور ’’کرسمس ٹوائے ڈرائیو‘‘۔ تنظیم نے ’’ہلال احمر‘‘ کے تعاون سے ’’غزہ ریلیف مہم‘‘ میں بھی حصہ لیا ہے۔

ایبی کاڈوم نے واضح کیا کہ مدد ہر قومیت، مذہب، اور پس منظر کے خاندانوں کو دستیاب ہے، بشرطیکہ وہ اپنی ضرورت ثابت کر سکیں اور تنظیم کے پاس وسائل موجود ہوں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تنظیم کے انسٹاگرام یا ویب سائٹ پر موجود آن لائن وِش لسٹ سے اشیاء کا انتخاب کریں، جو براہ راست ٹیم تک پہنچائی جاتی ہیں اور طلب کے مطابق تقسیم کی جاتی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button