
خلیج اردو
نئی دہلی: ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا (APAI) نے ایئر انڈیا طیارہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے پائلٹ کی غلطی کی طرف جانبداری پر مبنی قرار دیا ہے۔ رپورٹ بھارتی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بیورو (AAIB) نے جاری کی تھی۔
ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ بغیر کسی ذمہ دار دستخط یا سرکاری توثیق کے میڈیا کو لیک کی گئی، جو تحقیقات کے شفاف عمل پر سوالیہ نشان ہے۔ APAI نے اپنے بیان میں کہا کہ تحقیقات میں شفافیت کا فقدان ہے اور یہ طرز عمل عوامی اعتماد کو متاثر کر رہا ہے۔
ابتدائی رپورٹ میں ایک اہم نکتہ یہ بیان کیا گیا تھا کہ ٹیک آف کے چند لمحوں بعد ایندھن کے سوئچز کٹ آف پوزیشن میں چلے گئے، جس کے نتیجے میں انجنز کو ایندھن کی سپلائی بند ہو گئی۔ کاک پٹ وائس ریکارڈر میں ایک پائلٹ دوسرے سے پوچھتا سنا گیا کہ اُس نے ایندھن کیوں بند کیا، جس پر دوسرا پائلٹ انکار کرتا ہے۔
ایسوسی ایشن نے اس تجزیے کو "پائلٹ کی غلطی کا مفروضہ” قرار دیتے ہوئے کہا:
"ہم اس مفروضے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ تحقیقات حقائق پر مبنی، غیر جانبدار اور منصفانہ انداز میں کی جائیں۔”
APAI نے مزید الزام عائد کیا کہ تحقیقات میں اہل اور تجربہ کار افراد، خاص طور پر موجودہ لائن پائلٹس کو شامل نہیں کیا گیا، جو کہ عمل کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا رہا ہے۔
دوسری جانب، ایئر انڈیا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہی ہے اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم اس وقت کسی بھی مخصوص تفصیل پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تحقیقات جاری ہیں۔







