
خلیج اردو
ابوظبی: کم لاگت فضائی کمپنی وِز ایئر کی جانب سے یکم ستمبر 2025 سے ابوظبی سے اپنی پروازیں بند کرنے کے اعلان نے متحدہ عرب امارات کے سینکڑوں بجٹ پر سفر کرنے والے مسافروں کو مایوسی سے دوچار کر دیا ہے۔ ان میں سے متعدد افراد اس سستی سروس پر انحصار کرتے تھے تاکہ وہ باقاعدگی سے بین الاقوامی سفر کر سکیں۔
پچاس سالہ شہنا منصور علی اور ان کے شوہر ہر مہینے وِز ایئر کے ذریعے نئی منزلوں کی سیر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کے سفر کی تعداد میں واضح کمی آئے گی، کیونکہ اس معیار کی کم لاگت پروازیں کسی اور ایئرلائن سے حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
35 سالہ انزال لطیف، جو ایک ٹیلنٹ ایکوزیشن پروفیشنل ہیں، نے بتایا کہ وہ وِز ایئر کے ممبرشپ پلانز سے خاصی بچت کرتے رہے ہیں اور یہ بندش بجٹ پر سفر کرنے والوں پر براہِ راست اثر ڈالے گی۔ انہوں نے کہا کہ "اب مجھے Air Arabia جیسے دیگر سستے متبادل دیکھنے پڑیں گے۔”
محمد ایس، جو ہر سال تین سے چار مرتبہ وِز ایئر کے ذریعے سفر کرتے تھے، نے اس ایئرلائن کی لچک اور کم قیمتوں کو وجہ وفاداری قرار دیا۔ ان کے مطابق دوسری ایئرلائنز کی قیمتیں کافی زیادہ ہیں اور وہ اتنی سہولت فراہم نہیں کرتیں۔
ادھر، ہنگری میں زیرِ تعلیم تیسرے سال کی میڈیکل طالبہ اروندھتی بی، جو سال میں دو بار بوداپیسٹ جاتی ہیں، اس اچانک فیصلے پر حیران ہیں۔ ان کے مطابق اب دیگر ایئرلائنز کی قیمتوں میں خاصا فرق ہے — دبئی سے بوداپیسٹ تک یک طرفہ ٹکٹ کا نرخ تقریباً 2,500 درہم تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ وِز ایئر صرف 700 درہم لیتی تھی۔
اروندھتی نے کہا کہ انہیں یا کسی اور کو اس فیصلے کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں ملی، جس کی وجہ سے مالی بوجھ میں اضافہ ہوگا۔ ان کی اگلی پرواز وِز ایئر کے انخلاء کے بعد ہے، اور اب انہیں مہنگے متبادل تلاش کرنا ہوں گے۔
وِز ایئر نے 2021 میں ابوظبی ڈیولپمنٹ ہولڈنگ کمپنی (ADQ) کے ساتھ شراکت میں یہاں کام کا آغاز کیا تھا۔ پیر کے روز کمپنی کے سی ای او نے اعلان میں بتایا کہ "سپلائی چین کی رکاوٹیں، جغرافیائی سیاسی عدم استحکام اور محدود مارکیٹ رسائی” اس بندش کی اہم وجوہات ہیں۔







