خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات کو دیکھنے کے لیے گاڑی سست کرنا نہ صرف ایک ناپسندیدہ عادت ہے بلکہ ایک سنگین ٹریفک خلاف ورزی بھی ہے، جس پر ایک ہزار درہم جرمانہ اور بعض صورتوں میں 14 دن تک گاڑی ضبط کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس عمل، جسے Rubbernecking کہا جاتا ہے، سے نہ صرف ایمرجنسی سروسز کی راہ میں رکاوٹ آتی ہے بلکہ یہ ثانوی حادثات کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ٹریفک ماہر اور MA ٹریفک کنسلٹنگ کے بانی مصطفیٰ خان نے بتایا کہ یہ عمل متعدد قانونی دفعات کے تحت آتا ہے جیسے کہ “ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنا” یا “بلاوجہ گاڑی روکنا” — دونوں کو سابقہ ٹریفک قوانین میں جرمانے کے قابل جرم قرار دیا گیا ہے۔
عوامی لاعلمی اور خطرات
دبئی کے رہائشی احمد مجتبیٰ نے بتایا کہ انہیں اس خلاف ورزی کے قانونی پہلو کا علم ہی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا، "میں نے سوشل میڈیا پر اس بارے میں پیغامات تو دیکھے تھے، مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ اس پر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔” ان کے مطابق یہ ایک "فطری انسانی ردعمل” لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، جرمنی میں پانچ سال رہنے والی سارہ ایم نے بتایا کہ یورپ میں rubbernecking پر سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "وہاں لوگ جانتے ہیں کہ یہ نہ صرف غیرقانونی بلکہ خطرناک بھی ہے۔”
ٹریفک کی رکاوٹیں اور حادثات
ماہرین کے مطابق، یہ عمل صرف سست روی نہیں بلکہ "فینٹم ٹریفک جام” کا سبب بنتا ہے — یعنی ایسی ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ جس کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہ آئے۔ ایک ڈرائیور بریک لگاتا ہے تو پیچھے والی گاڑیاں بھی رُک جاتی ہیں، اور اگر فاصلہ کم ہو تو تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مصطفیٰ خان نے مشورہ دیا کہ گاڑیوں کے درمیان 2 سے 3 سیکنڈ کا فاصلہ رکھنا چاہیے تاکہ سامنے کی صورتحال پر بہتر نگاہ رکھی جا سکے۔
پکڑنا مشکل، مگر ناممکن نہیں
گزشتہ سال "خلیج ٹائمز” کی رپورٹ کے مطابق، حادثات کے دوران ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے پر 630 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں، مگر مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ایمرجنسی اہلکاروں کی ترجیح انسانی جانیں بچانا ہوتی ہے، نہ کہ چالان کاٹنا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر نگرانی کے لیے ڈرون یا خودکار نظام لگائے جائیں تو خلاف ورزیوں میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔
معاشرتی اثرات اور احتیاط کی ضرورت
Rubbernecking سے نہ صرف ٹریفک بلکہ گاڑیوں کے بریکس کا زیادہ استعمال، ایندھن کا ضیاع، اور ڈرائیور کی توجہ میں کمی بھی ہوتی ہے۔ مصطفیٰ نے سوال اٹھایا، "اگر آپ کی توجہ سڑک پر نہیں بلکہ کسی اور منظر پر ہے، تو آگے کیا ہو رہا ہے وہ کون دیکھے گا؟”
انہوں نے کہا کہ "اگر آپ کسی حادثے کے بعد ایمبولینس میں ہوں، تو کیا چاہیں گے کہ آپ کے سامنے کوئی گاڑی محض ویڈیو بنانے کے لیے سست ہو جائے؟” ان کا پیغام تھا: "تجسس کی تسکین کے لیے انٹرنیٹ کافی ہے، سڑک پر زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔







