متحدہ عرب امارات

دبئی میں چھاپہ: کپڑوں کی آڑ میں 35 لاکھ سے زائد سمگل شدہ اشیاء ضبط، 13 کروڑ درہم سے زائد ٹیکس چوری بے نقاب

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات کی فیڈرل ٹیکس اتھارٹی (FTA) نے دبئی میں ایک بڑے چھاپے کے دوران 35 لاکھ سے زائد غیر قانونی اور غیر مجاز ایکسائز اشیاء ضبط کر لیں۔ یہ اشیاء جعلی تمباکو اور مشروبات پر مشتمل تھیں، جنہیں لباس اور جوتوں کے کارگو میں چھپایا گیا تھا۔

فیڈرل ٹیکس اتھارٹی کے اہلکاروں کی جانب سے کی گئی اس کامیاب کارروائی کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ دبئی میں ایک وسیع سطح کی اسمگلنگ کا جال بچھا ہوا تھا، جس میں ٹیکس چوری اور غیر قانونی درآمد شامل تھی۔

ضبط کی گئی اشیاء پر واجب الادا ٹیکس کا تخمینہ 133.2 ملین درہم (یعنی 13 کروڑ 32 لاکھ) لگایا گیا ہے۔ ایف ٹی اے نے تصدیق کی ہے کہ تمام غیر قانونی اشیاء کو مستقل طور پر ضبط کر لیا گیا ہے، مکمل ٹیکس تشخیص کر لی گئی ہے اور متعلقہ اداروں پر جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔ مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

ضبط شدہ اشیاء میں شامل ہیں:

  • 15 لاکھ 60 ہزار سگریٹ کے پیکٹس

  • 17 لاکھ 70 ہزار الیکٹرانک سگریٹ اور متعلقہ آلات

  • 1 لاکھ 11 ہزار 360 خام تمباکو کے پیکٹس

  • 4 ہزار شیشہ تمباکو کے پیکٹس

  • 121 نکوٹین پاؤچز

  • 4,600 ایکسائز مشروبات کے پیکٹس

ایف ٹی اے کے مطابق، یہ کارروائی ٹیکس چوری کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد یو اے ای میں ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور صارفین کو غیر معیاری اور غیر قانونی مصنوعات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ضبط شدہ اشیاء ملک کے ایکسائز ٹیکس قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھیں۔

حکام نے واضح کیا کہ ایکسائز اشیاء کے تمام پیدا کنندگان، درآمد کنندگان اور ذخیرہ کرنے والے اداروں کو فیڈرل قانون نمبر 7 برائے 2017 اور اس میں ہونے والی ترامیم کے مطابق مکمل طور پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

ایف ٹی اے نے یہ بھی بتایا کہ وہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق جدید الیکٹرانک کنٹرول سسٹمز استعمال کر رہا ہے، جن میں ڈیجیٹل ٹیکس اسٹامپس بھی شامل ہیں۔ یہ اسٹامپس ہر اشیاء پر چسپاں کیے جاتے ہیں، جن میں درج معلومات کو FTA اہلکار ڈیجیٹل طور پر جانچ کر یہ یقین دہانی کرتے ہیں کہ مقررہ ٹیکس ادا کیا گیا ہے یا نہیں۔

فیڈرل اتھارٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کے تمام سات امارات میں ٹیکس قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے وہ وفاقی اور مقامی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button