
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات اور مشرق وسطیٰ کے ملازمین کی اکثریت سالانہ تعطیلات کے دوران بھی اپنے کام سے مکمل طور پر الگ نہیں ہو پاتی۔ عالمی بھرتی ادارے "رابرٹ والٹرز” کی تازہ تحقیق کے مطابق 54 فیصد ملازمین تعطیلات کے دوران اپنے ای میلز چیک کرتے ہیں تاکہ واپسی پر کام کے بوجھ سے بچ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق، 65 فیصد ملازمین کو چھٹیوں کے بعد دفتر واپسی پر بے چینی اور گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے، جسے ماہرین نے "سالانہ چھٹیوں کی بے چینی” (Annual Leave Anxiety) کا نام دیا ہے۔ اس ذہنی کیفیت کے باعث نہ صرف ملازمین کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ خطے بھر میں دفاتر کی مجموعی پیداواریت پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
ای میلز کی نگرانی، ذہنی دباؤ میں اضافہ
تحقیق کے مطابق:
-
54 فیصد ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ چھٹی کے دوران کام کے ای میلز اس لیے چیک کرتے ہیں تاکہ واپسی پر کام کا بوجھ کم ہو۔
-
41 فیصد ملازمین فوری نوعیت کے معاملات پر نظر رکھنے کے لیے یہ معمول اپناتے ہیں۔
-
صرف 22 فیصد ملازمین ہی خود کو تعطیلات کے بعد تازہ دم محسوس کرتے ہیں۔
چھٹیوں کی فضا میں بھی ‘FOFB’ کا خوف
رپورٹ میں ایک نیا رجحان "FOFB” یعنی Fear of Falling Behind (کام میں پیچھے رہ جانے کا خوف) کو اجاگر کیا گیا ہے، جو دفاتر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ 63 فیصد ملازمین نے تسلیم کیا کہ وہ اس وقت ہی بہتر انداز میں چھٹیاں گزار سکتے ہیں جب ان کی پوری ٹیم بھی چھٹی پر ہو۔
پیشہ ورانہ وقار یا ذہنی سکون؟
رابرٹ والٹرز مشرق وسطیٰ کے منیجنگ ڈائریکٹر جیسن گرنڈی کے مطابق، "ایپس جیسے Slack اور MS Teams جہاں رابطے میں مدد دیتی ہیں، وہیں یہ ملازمین پر مسلسل ‘آن لائن رہنے’ کا غیر اعلانیہ دباؤ بھی ڈالتی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: "بعض ملازمین تو اس حد تک چلے گئے ہیں کہ وہ چھٹی کی درخواست ہی نہیں دیتے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں غیر سنجیدہ سمجھا جائے یا کام سے غافل تصور کیا جائے۔”
ماہرین کے مطابق سالانہ تعطیلات کا مقصد آرام اور ذہنی تجدید ہے، مگر موجودہ رویے ان کے بالکل برعکس رجحان کو فروغ دے رہے ہیں، جو آنے والے وقت میں کارکردگی کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔







