
خلیج اردو
ابوظبی، 15 جولائی 2025
بیرون ملک یونیورسٹی جانے کے لیے صرف سامان، ویزہ اور دستاویزات ہی کافی نہیں رہے۔ اس سال، ابوظبی کے 100 سے زائد اماراتی طلبا کو تعلیمی سفر سے قبل حفاظت، ثقافتی شناخت، قانونی شعور اور خود انحصاری پر مبنی ایک ہفتہ طویل تربیتی پروگرام سے گزارا جا رہا ہے، جو 21 جولائی تک رِکسوس مرینا ابوظبی میں جاری رہے گا۔
یہ پری ڈیپارچر پروگرام ابوظبی محکمہ تعلیم و علم (ADEK) کی جانب سے ابوظبی اسکالرشپ اور خطوہ پروگرام کے تحت، 25 قومی و بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
نہ صرف تعلیمی بلکہ شخصی ترقی کا بھی ہدف
ADEK میں ٹیلنٹ انیبلمنٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر بشائر المطروشی کا کہنا تھا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ طلبا مثبت سوچ، استقامت اور قیادت کی صلاحیتوں میں بھی نکھار لائیں، محض نصابی تیاری ہی نہیں۔‘‘ ان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ پروگرام 11 شراکت دار مراکز میں والدین، طلبا اور صنعت سے موصولہ رائے کی بنیاد پر منعقد ہو رہا ہے۔
قانونی شعور اور ذاتی تحفظ پر زور
ابوظبی پولیس کے افسران نے طلبا کو بیرون ملک ممکنہ قانونی خطرات سے آگاہ کیا۔ میجر احمد الرمیثی نے قانونی آگاہی سیشن میں کہا، ’’اگر کوئی مسئلہ ہو تو دوستوں کو شامل کر کے خود بھی نہ پھنسیں بلکہ سرکاری حکام کو اطلاع دیں، جو معاملے کو مناسب رازداری سے نمٹائیں گے۔‘‘
میجر یوسف الحمادی نے نشہ آور اشیاء سے متعلق تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض چیزیں بیرون ملک قانونی ہو سکتی ہیں، مگر اماراتی قانون آپ پر لاگو رہتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایسی چیزیں آپ کے عزائم کو برباد کر سکتی ہیں۔‘‘
ثقافتی شناخت اور گھریلو ذائقے کو برقرار رکھنے کی کوشش
طلبا کو بیرون ملک اماراتی شناخت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کھانے پکانے کی عملی تربیت بھی دی جا رہی ہے تاکہ وہ فاسٹ فوڈ پر انحصار نہ کریں۔ ڈاکٹر المطروشی نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ طلبا اماراتی کھانے یاد رکھیں اور خود تیار کر سکیں۔‘‘
ڈیجیٹل تحفظ، AI سے متعلق آگاہی اور تحقیقی دیانت پر بھی خصوصی سیشنز کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ طلبا آن لائن مواد کو سمجھداری سے استعمال کر سکیں اور سرقہ سے بچ سکیں۔
سینئر طلبا سے رہنمائی اور سبق آموز کہانیاں
پروگرام میں شامل ایک پرانا طالب علم عبداللہ الہاشمی، جو اب سنٹرل بینک میں ملازمت کر رہا ہے، نے بتایا کہ جب وہ بوسٹن میں تعلیم حاصل کر رہا تھا، تو اکثر امریکی طلبا صرف دبئی کو ہی یو اے ای سمجھتے تھے۔ اس نے کہا، ’’مجھے ان کو سکھانا پڑا کہ ہم کون ہیں، عرب ایک ہی طرح کے نہیں ہوتے، ہم مختلف رنگوں اور ثقافتوں کے حامل ہیں — یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘
خطوہ پروگرام کے 22 سالہ طالب علم علی الحسنی نے، جو آسٹریلیا میں پائیدار انجینئرنگ پڑھنے جا رہا ہے، کہا کہ پولیس کے سیشنز بہت مفید تھے۔ ’’مجھے سیکھنے کو ملا کہ اگر کوئی مشکوک شخص بیگ اٹھانے کو کہے تو فوراً انکار کر دینا چاہیے۔‘‘
جبکہ 20 سالہ عبداللہ محمد، جو آئی ٹی پڑھنے کی تیاری کر رہا ہے، نے کہا، ’’میں نے جانا کہ ہر ریاست کے اپنے قوانین ہوتے ہیں، اور اگر کوئی مجھے تلاشی دینے کو کہے تو مجھے اس کا شناختی کارڈ اور وارنٹ مانگنے کا حق حاصل ہے۔‘‘
ڈاکٹر المطروشی نے بتایا کہ یہ پروگرام فی الحال پائلٹ بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے، لیکن مستقبل میں تمام اماراتی طلبا کو شامل کرنے کا ارادہ ہے، چاہے وہ کسی بھی اسکالرشپ پروگرام سے وابستہ ہوں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے دیکھا ہے کہ طلبا کی ذہنی صحت، قانونی شعور اور ثقافتی آگاہی میں بہتری آئی ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ وہ صرف ہم آہنگ نہ ہوں بلکہ دنیا میں یو اے ای کی نمائندگی بہترین انداز میں کریں







